سعودی عرب: سمندر میں ڈوبے جہاز سے نوادرات کا بیش قیمت خزانہ دریافت
غرق جہاز نے ٹائٹینک کی یاد تازہ کر دی
ٹائٹینک کے سمندر میں غرق ہونے کا واقعہ ایک المناک حادثہ تھا جو 14 اور 15 اپریل 1912 کی درمیانی شب بحر اوقیانوس میں ایک برفانی تودے سے ٹکرا کر ڈوب گیا جس کےنتیجے میں اس پر سوار تقریبا 1500 مسافر ہلاک ہو گئے تھے۔
سعودی عرب کے ماہرین اور غوطہ خوروں کو بھی ایک سمندر میں ڈوبے بحری جہاز کا ملبہ ملا ہے جس پر نوادرات کا قیمتی خزانہ لادا گیا تھا۔ اس جہاز نے مشہور زمانہ ٹائٹینک کی یاد تازہ کردی ہے۔
چند روز قبل سعودی ہیریٹیج اتھارٹی نے زیرِ آب نوادرات کی تلاش کے مشن کی کامیابی کا اعلان کیا تھا۔اس مشن میں ہیریٹیج اتھارٹی کے عملے کے 5 سعودی غوطہ خوروں نے حصہ لیا۔ سعودی غوطہ خوروں نے حقل گورنری کے ساحل کےقریب بحیرہ احمر میں ڈوبے ہوئے جہاز کا ملبہ دریافت کیا یہ ایک کارگو جہاز تھا جس پر نوادرات کے سیکڑوں فن پارے لادے گئے تھے۔
50 سے زیادہ مقامات کی نشاندہی
بحیرہ احمر میں ڈوبے ہوئے ورثے کا سروے کرنے والی ٹیم نے اس جہاز کے ملبے تک رسائی حاصل کی جو ساحل سے 300 میٹر کے فاصلے پر سمندر کی تہہ میں موجود ہے۔
ابتدائی رپورٹس میں پتا چلا تھا کہ جہاز مرجانی چٹانوں سے ٹکرا گیا ہو گا جس کی وجہ سے اس کے پرزے بکھر گئے اور اس کا سامان گر گیا۔
شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ بحری جہاز کا سفر اٹھارویں صدی عیسوی کے اواخر ہوا۔ یہ وہ دور تھا جب بحیرہ احمر میں سمندری تجارتی قافلے سفر کرتے۔ جہاز کے حاثے کی جگہ سے ملنے والےملبے سے زیادہ تر مٹی کے برتنوں کے ٹکڑے ملے ہیں جو "امفورا" کی قسم کے ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ بحیرہ احمر کے پانیوں میں ڈوبی نوادرات کے لیے سروے اور کھدائی کا کام جسےسعودی ہیریٹیج اتھارٹی نے بین الاقوامی یونیورسٹیوں اور تحقیقی مراکز کے تعاون سے شروع کیا تھا، اس میں بحیرہ احمر کے کنارے 50 سے زیادہ ڈوبے بحری جہازوں کی جگہوں کا انکشاف ہوا ہے۔ ان جہازوں کی باقیات سے مملکت کے ساحلی علاقوں کی تاریخی اور آثار قدیمہ کی اہمیت اور اس دور کی تجارتی اور اقتصادی سرگرمیوں کا پتا چلتا ہے۔
سنہ 2015-2016 میں مشترکہ سعودی-اطالوی مشن نے اس سے قبل املج شہر کے قریب ایک مقام پر ایک ڈوبے ہوئے جہاز کا ملبہ ملا تھا۔ اس جہاز کے عرشے کو بلوط اور دیودار کے درختوں سے بنایا گیا تھا۔ جہاز سے مٹی کے برتن، پیالے اور چینی کے آبخورے، چینی مٹی کے برتن، شیشے کی ٹوٹی ہوئی بوتلیں اور دھاتی پیالے ملے جو اٹھارویں صدی عیسوی کے وسط کے دور میں روز مرہ استعمال کے لیے مشہور تھے۔
سب سے پرانا بحری جہاز
مغربی ساحل کے تاریخی مقامات کا سروے کرنے والی سعودی- جرمن مشترکہ ٹیم نے 2012 سے 2017 تک اپنا فیلڈ ورک شروع کیا۔اس مشن کو بحیرہ احمر میں ایک رومی جہاز کے ملبے کی باقیات بھی ملیں۔ اب تک اسے سعودی ساحل کے قریب سے ملنے والے قدیم بحری جہاز کا سب سے پرانا ملبہ سمجھا جاتا ہے۔
اس کے علاوہ ایک اور بحری جہاز کا ملبہ پہلے اسلامی دور کا ہے۔ یہ ملبہ شمال میں ربیغ سے جنوب میں شعیبہ کے درمیان کے علاقے میں پھیلا ہوا ہے۔ یہ ملبہ مملکت کے ساحل اور اس مجموعی ورثے سے مالا مال ہونے کی نشاندہی کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کے ماہرین آثار قدیمہ نے اس علاقے میں سمندر میں موجود بحری جہازوں کے ملبے کی تلاش میں دلچسپی لی۔
ہیریٹیج اتھارٹی متعدد مقامی یونیورسٹیوں اور بین الاقوامی مشنز کے تعاون سے اس جگہ کا مطالعہ کرنے، آثار قدیمہ کے باقیات کی جسامت اور تاریخ کی نشاندہی کرنے، اس مقام پر جہاز کے باقیات کی موجودگی کی تصدیق کرنے، اور ان کا موازنہ پچھلی تحقیق سے کرنے پر کام کر رہی ہے۔
یہ دریافتیں 2015 سے زیر آب ثقافتی ورثہ کنونشن میں مملکت کی رکنیت پر مبنی ہیریٹیج اتھارٹی کی زیر آب ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے کی جانے والی کوششوں کا حصہ ہیں۔