سویڈش،ایرانی شہری کو جاسوسی کے جُرم میں 21 مئی تک تختہ دار پرلٹکانے کی تیاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیل کے لیے جاسوسی کے الزام میں ایران میں سزائے موت پانے والے ایک سویڈش ایرانی شہری کو رواں ماہ پھانسی دینے کی تیاری کی جارہی ہے جبکہ سویڈن میں جنگی جرائم کے شُبے میں گرفتار ایک سابق ایرانی عہدہ دار کے خلاف مقدمے کی کارروائی ختم ہوگئی ہے۔

ایران کی نیم سرکاری خبررساں ایجنسی ایسنا نے بدھ کو ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ ڈیزاسٹرمیڈیسن کے ڈاکٹر اور محقق احمدرضا جلالی کو 2016 میں ایران کے تعلیمی دورے کے موقع پرگرفتار کیا گیا تھا اور انھیں 21 مئی تک تختہ دارپر لٹکا دیا جائے گا۔

ایران کی عدلیہ نے ابھی تک اس رپورٹ پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔ سویڈش وزارت خارجہ نے بھی فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا لیکن سویڈن نے ماضی میں جلالی کی سزائے موت کی مذمت کی تھی۔

تہران کی جانب سے اس اعلان سے چندے قبل ایرانی استغاثہ کے سابق عہدہ دار حامد نوری کے خلاف سویڈش دارالحکومت اسٹاک ہوم میں مقدمے کی سماعت مکمل ہوگئی ہے لیکن ان کے خلاف ابھی تک کسی فیصلے کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔

حامد نوری کو 2019 میں سویڈش حکام نے گرفتار کیا تھا۔انھیں جرم ثابت ہونے پربین الاقوامی جنگی جرائم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزام میں زیادہ سے زیادہ عمرقید کی سزا کا سامنا ہوسکتا ہے۔

نوری پر الزام ہے کہ انھوں نے 1988 میں ایران کے شہر کرج کی گوہردشت جیل میں سرکاری احکامات پر سزائے موت پانے والے سیاسی قیدیوں کے قتل میں قائدانہ کردار ادا کیا تھا۔ایمنسٹی انٹرنیشنل نے 2018 میں ایک رپورٹ میں کہا تھاکہ ’’پانچ ہزار افراد کو موت کے گھاٹ اتارا گیا تھا لیکن ان سیاسی مقتولوں کی اصل تعداد کہیں زیادہ ہوسکتی ہے‘‘۔

سویڈش قانون کے تحت عدالتیں سویڈش شہریوں اور دیگر شہریوں پربیرون ملک ہونے والے بین الاقوامی قوانین کے خلاف جرائم کا مقدمہ دائرکرسکتی ہیں۔

اس سے قبل ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق پیرکے روز ایران کی وزارت خارجہ نے تہران میں سویڈش سفیرکو طلب کیا تھا تاکہ ان سے نوری کے خلاف عدالتی مقدمے کے دوران میں سویڈش استغاثہ کی جانب سے ایران پر لگائے گئے بے بنیاد اور من گھڑت الزامات پراحتجاج کیا جاسکے۔

گذشتہ سال ایران میں انسانی حقوق کے بارے میں اقوام متحدہ کے تفتیش کارنے 1988ء میں سرکاری حکم پر پھانسی کے الزامات اور تہران کے نائب پراسیکیوٹر کی حیثیت سے صدرابراہیم رئیسی کے کردار کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔

رئیسی سے جب ان الزامات کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے گذشتل سال جون میں اپنے انتخاب کے بعد صحافیوں کو بتایا کہ انھوں نے قومی سلامتی اور انسانی حقوق کا دفاع کیاتھا۔

ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب نے حالیہ برسوں میں دُہری شہریت کے حامل بیسیوں افراد کو گرفتار کیا ہے۔ان میں سے زیادہ تر جاسوسی کے الزام میں گرفتار کیے گئے ہیں۔انسانی حقوق کے کارکنوں نے ایران پر الزام لگایا ہے کہ وہ انھیں مغرب سے سودے بازی کے لیے استعمال کر رہا ہے۔

ایران دُہری قومیت کو تسلیم نہیں کرتا اور سفارتی فوائد کے لیے غیرملکیوں کو حراست میں لینے کی تردید کرتا ہے۔تاہم ایران نے جیل میں قید متعدد غیرملکیوں اوردُہری شہریت کے حامل افراد کا بیرون ملک قیدایرانیوں کے ساتھ تبادلہ کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں