روسی جہاز موسکوا کو غرق کرنے میں امریکی معلومات کا اہم کردار رہا : نیویارک ٹائمز
امریکی ذمے داران کے مطابق امریکا نے یوکرین کی فوج کو قیمتی انٹیلی جنس معلومات پیش کی تھی جو گذشتہ ماہ بحیرہ اسود میں روسی بیڑے میں شامل مرکزی بحری جہاز کے مقام کا تعین کرنے اور اسے نشانہ بنانے میں مدد گار ثابت ہوئی۔
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق یہ مدد جس نے روسی مرکزی بحری جہاز موسکوا کے ڈوب جانے میں اہم کردار ادا کیا ،،، امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کی جانب سے جاری خفیہ کوششوں کا حصہ ہے۔ ان کوششوں کا مقصد یوکرین کو لڑائی کے میدان میں انٹیلی جنس معلومات فراہم کرنا ہے۔ ذمے داران نے بتایا کہ انٹیلی جنس معلومات میں دونباس ریجن میں روسی فوج کی متوقع نقل و حرکت بھی شامل ہے۔
آخری چند ہفتوں میں امریکا نے بھاری ہتھیاروں کے ذریعے یوکرین کے لیے اپنی سپورٹ تیز کر دی ہے۔ علاوہ ازیں عسکری ، اقتصادی اور انسانی امداد کے طور پر کانگریس سے اضافی 33 ارب ڈالر طلب کر لیے ہیں۔
گذشتہ ماہ 13 اپریل کو یوکرین کی فوج نے نیبٹن طرز کے دو میزائل داغ کر روسی جنگی جہاز ماسکوا کو نشانہ بنایا۔ اس کے نتیجے میں جہاز میں آگ بھڑک اٹھی اور آخر کار وہ پانی میں ڈوب گیا۔ یوکرین اور امریکا کے ذمے داران کے مطابق موسکوا ممکنہ طور پر ایک ترکی ساختہ ڈرون طیارے کے سبب اپنی توجہ کھو بیٹھا تھا۔ یہ ڈرون طیارہ جائے حادثہ کے قریب پرواز کر رہا تھا۔
ماسکوا کو نشانہ بنائے جانے کے فوری بعد بائیڈن انتظامیہ نے چُپ سادھ لی۔ یہاں تک کہ انہوں نے روسی بحری جہاز کو نشانہ بنائے جانے کی تصدیق کرنے سے بھی انکار کر دیا۔
امریکی ذمے داران نے ان معلومات کو ظاہر کرنے سے انکار کر دیا جو یوکرین کی فوج کو فراہم کی گئی۔ تاہم ایک ذمے دار نے بتایا کہ مذکورہ معلومات بحیرہ اسود میں محض روسی جہاز کے مقام کے تعین سے اوپر کی سطح کی تھی۔