اٹلی :ٹسکَنی کے قریب ہیلی کاپٹر کے حادثے میں چار ترک تاجر، دو لبنانی ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اٹلی کے علاقے ٹسکَنی میں ہیلی کاپٹر کے حادثے میں چار ترک اور دو لبنانیوں سمیت سات افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ہیلی کاپٹرریڈار سکرین سے دوروز قبل غائب ہوگیا تھا۔

مقامی حکام نے ہفتے کے روز بتایا کہ ہیلی کاپٹر جمعرات کو ٹسکنی کے شہر لوکا سے روانہ ہوا تھا اور شمالی شہر ٹریویسو کی طرف جا رہا تھالیکن وہ ایک دور دراز علاقے میں خراب موسم کی وجہ سے لاپتا ہوگیا تھا۔

انھوں نے کہا کہ ریسکیو اہلکاروں نے ہیلی کاپٹر سے سات مسافروں کی نعشیں نکالی ہیں۔ترکی کے چار اور دولبنانی شہری مردہ حالت میں پائے گئے ہیں۔ وہ اٹلی کے کاروباری دورے پر تھے۔ موڈینا شہر میں ناظم کے دفتر نے ایک بیان میں کہا کہ اطالوی پائلٹ بھی حادثے میں ہلاک ہوگیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ہیلی کاپٹرکا ملبہ ٹسکَنی اور ایمیلیارومانیا کے درمیان سرحد پرایک پہاڑی علاقے سے ملا ہے۔حکام نےواقعہ کی تحقیقات شروع کردی ہے اورعلاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے۔

اطالوی فضائیہ کے ٹویٹراکاؤنٹ پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں ایک امدادی کارکن نے بتایا کہ ہیلی کاپٹر بنیادی طور پرایک وادی کے اندر گرکرتباہ ہواہے اور یہ ایک ندی کے قریب واقع ہے۔انھوں نے بتایا کہ جب ہم ہیلی کاپٹر کے پاس پہنچے تو ہمیں اس کے ملبے سے جلی ہوئی لاشیں ملی ہیں۔

بتایا گیا ہے کہ ترک تاجرترکی کے بڑے صنعتی گروپ ایکزاکی بسی کے ذیلی ادارے ایکزاکی بسی کنزیومر پروڈکٹس کے لیے کام کرتے تھے۔کمپنی نے ایک بیان میں کہا کہ وہ اٹلی میں پیپرٹیکنالوجیز کے ایک میلے میں شرکت کے لیے گئے تھے۔

واقعہ سے آگاہ ایک شخص نے رائٹرز کو بتایا کہ حادثے کا شکار ہونے والا ہیلی کاپٹر دفاعی گروپ لیونارڈو کا تیار کردہ اے ڈبلیو 119 کوآلا تھا اور یہ اٹلی کے شمالی علاقے تھین میں قائم ٹرانسپورٹ اور ایروناٹک کی تعمیرومرمت کی کمپنی آیویوہیلی کاپٹرز کی ملکیت تھا۔آیویو ہیلی کاپٹرز نے فوری طور پراس واقعہ پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں