ایرانی حکومت کے تخلیق کردہ مذہبی ترانے کی گونج امریکا کی سڑکوں پر

ترانہ بچوں کو برین واش کرنے اورانہیں بچہ فوج کاحصہ بنانے کے لیے ہے، انسانی حقوق تنظیم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

ایرانی ریاستی ٹی وی نے ایک ایسا ترانہ پڑھتے ہوئے بچوں کو دکھایا گیا ہے جو اہل تشیع کے مطابق بارہویں امام کے حوالے سے ہے اور اس میں ایرانی رہبر خامنہ ای کے علاوہ جنرل سلیمانی کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

اہم بات یہ بھی ہے کہ ایرانی سپانسرڈ اس ترانے کو امریکہ ہیوسٹن میں بچوں نے گایا ہے اور ان بچوں میں لبنان، شام، عراق اور پاکستان سمیت کئی ملکوں کے بچے شامل ہیں۔

ہیوسٹن میں اس ترانے کے گائے جانے کا موقع اسلامک ایجوکیشن سنٹر کی طرف سے منعقد کردہ ایک تقریب میں فراہم کیا گیا۔ اس ترانے کو تنظیم نے اپنے فیس بک پر پوسٹ کیا ہے۔ جبکہ ایرانی ٹی وی نے اس کی ویڈیو کو اپنی سکرین پر دکھایا ہے۔

اس ترانے کا عنوان 'مرحبا اے قائد ' ہے۔ اس ترانے کا اصل تصور یہ کہ بچے اپنے آپ کو شیعوں کے بارہویں امام کے ساتھ جوڑتے ہیں اور امام مہدی کی وفاداری کا دم بھرتے ہیں۔

لبنانی حزب اللہ کے سرکاری 'المنار ٹی وی 'کے مطابق اس ترانے کے لکھنے کا کام ایرانی رہبر خامنہ ای کے کہنے پر مکمل کیا گیا تاکہ نوجوان اور نئی نسل کو امام مہدی کے ساتھ منسوب کر سکیں۔

یہ ترانہ پہلی بار ایرانی سرکاری ٹی وی پر مار کے مہینے میں دکھایا گیا۔ جس میں خامنہ ای اور سابق پاسداران جنرل قاسم سلیمانی کا بھی ذکر تھا۔ ترانے کو ایرانی میڈیا نے بار بار دکھایا اور سنایا۔

اس میں بچے گا رہے ہیں ' میں قاسم سلیمانی تمہارے لیے گواہی دیتا ہوں۔' انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ ایک پراپیگنڈا پر مبنی ترانہ ہے تاکہ بچوں کی 'برین واشنگ' کی جا سکے اور انیں بچوں فوج کے طور پر بھرتی کیا جاسکے۔ اسی لیے اس ترانے کو گانے والوں میں لبنانی، عراقی اور لبنانی بچوں سمیت کئی ملکوں کے بچوں کو شامل کیا گیا ہے.

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں