سعودی ویژن 2030

سعودی عرب میں رقوم کی برقی منتقلی2021 میں پہلی بارنقد لین دین سے متجاوز:ساما

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی عرب میں پہلی مرتبہ نقد رقوم کی ادائی کا طریق کار سب سے زیادہ قابل استعمال نہیں رہا ہے اورمرکزی بینک کی تحقیق کے مطابق گذشتہ ڈیڑھ ایک سال میں افراد اور اداروں کی جانب سے نقدرقوم کے بجائے الیکٹرانک ادائی (رقوم کی برقی ترسیل) میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔2021 میں عمل میں لائے جانے والے کاروباری لین دین میں 57 فی صد رقوم کی ترسیل برقی ذرائع سے کی گئی ہے جبکہ 2019 میں یہ شرح صرف 36 فی صد تھی۔

سعودی عرب کے مرکزی بینک (ساما) نے اتوار کے روز یہ انکشاف ایک رپورٹ میں کیا ہے۔یہ رپورٹ 2021 کے دوران میں مملکت میں صارفین کی جانب سے رقوم کی ادائی کے طریقوں کی پیمائش کے لیے کیے گئے ایک وسیع مطالعہ کے نتائج پر مبنی ہے۔اس تحقیق کا مقصد مارکیٹ کے تمام شعبوں یعنی افراد، کاروباروں اور سرکاری شعبے میں صارفین کی ادائی کی (نقد اورغیرنقد یابرقی) عادات کا جائزہ لینا تھا۔

اس مطالعہ سے پتاچلا ہے کہ تمام صارف گروپوں میں الیکٹرانک ادائی کا استعمال نقدرقم کے استعمال سے زیادہ ہے۔ساما کے وسیع مطالعہ میں مارکیٹ بھر میں ادائی کے طریقوں کے استعمال کا احاطہ کیا گیا ہے اور یہ سب سے زیادہ استعمال ہونے والے طریق کارکے بارے میں تفصیلی بصیرت فراہم کرتا ہے کہ کس ذریعے سے اور کس کے لیے خریداری کی گئی ہے۔

مجموعی طور پر معاشی سرگرمیوں کے تمام شعبوں میں برقی ذریعے سے رقوم کی منتقلی کا استعمال 2019 میں 44 فی صد سے بڑھ کر 2021 میں حجم کے لحاظ سے رقوم کی تمام ادائی کا 62 فی صد ہو گیا۔جب قیمت سے پیمائش کی جاتی ہے تویہ تمام لین دین ادائی کے 94 فی صد کی نمائندگی کرتے ہیں ۔

کاروباری شعبے میں الیکٹرانک ادائی کا حصہ 2021 میں تمام کاروباری ادائیوں کے 84 فی صد تک پہنچ گیا جو 2019 میں 51 فی صد (دو سال کے دوران میں 65 فی صد اضافہ) کے مقابلے میں زیادہ ہے۔

دوسری جانب مطالعہ سے یہ بھی انکشاف ہواہے کہ سرکاری شعبے نے افراد، کاروباری اداروں یا دیگر سرکاری اداروں کے رقوم کے عملی اورظاہری لین دین کو برقی ترسیل کے طریقوں میں قریباً مکمل طور پرتبدیل کردیا ہے۔

ویژن 2030

مالیاتی شعبے کے ترقیاتی پروگرام کا ایک اہم مقصد مملکت کے ویژن 2030 کے تحت 2025 تک رقوم کی برقی ذرائع سے منتقلی کو 70 فی صد تک بڑھانا ہے۔اس طرح مملکت کو کم ترنقدی لین دین کے معاشرے میں تبدیل کرنے کے لیے ڈیجیٹل ادائی کو فروغ دینا ہے۔

سعودی عرب کا مرکزی بینک سامامالیاتی شعبے کے ترقیاتی پروگرام میں اپنے بنیادی کردار کے ذریعے نئے تکنیکی اور آپریشنل بنیادی ڈھانچے، ریگولیٹری اور قانون سازی کی ایڈجسٹمنٹ اور ادائی کی نئی خدمات کو متعارف اور فروغ دے رہا ہے۔اس کے علاوہ ساما قومی اور بین الاقوامی رقوم کی ادائی کے ماحولیاتی نظام کی ترقی وتوسیع کے طور پر تیزترین اورمؤثرالیکٹرانک ادائی کے طریقوں کے استعمال کی حوصلہ افزائی کرنا چاہتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں