ایران مذاکرات کو "تاخیری" حربے کے طور پر استعمال کرتا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی حکام ایران کو جوہری معاہدے تک پہنچنے سے روکنے کی کوشش میں کئی حربے استعمال کر رہے ہیں۔ ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ آیا ایران بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی سے اس کے خلاف تحقیقات بند کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے، جس سے نئے جوہری معاہدے پر ہونے والے مذاکرات کے خاتمے کا خدشہ ہے۔

اگرچہ نشانیاں بتاتی ہیں کہ معاہدہ ختم ہو رہا ہے، لیکن اس کی موت کا اعلان کرنا ابھی بہت دور ہے۔ اس تناظر میں مذاکرات سے واقف ایک اسرائیلی اہلکار نے ’ہارٹز‘ اخبار کو بتایا کہ اس معاہدے میں بہت سے فریقین دلچسپی رکھتے ہیں اور وہ آنے والے وقت میں اسے بحال کرنے کی کوشش کریں گے۔

ان کے بقول ایران مسلسل تاخیر کو مذاکراتی حربے کے طور پراستعمال کر رہا ہے اور ’آئی اے ای اے‘ کی فائل کو بند کرنے پراس کا اصرارایک اور تاخیر ہو سکتا ہے، چاہے وہ اس معاہدے کو پوری طرح اڑا نہ دے۔

’اخبار‘ نے ایک اور اسرائیلی ذریعے کے حوالے سے حال ہی میں اس تشخیص کا اعادہ کیا ہے کہ ’نومبر‘ میں ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد تک مذاکرات میں تاخیر ہو سکتی ہے۔

"ہارٹز" کے مطابق امریکا معاملے کو پس پشت ڈالنے کے لیے جلد از جلد اس معاہدے پر دستخط کرنا چاہتا ہے، جب کہ ایران کسی نئے معاہدے پر دستخط کرنے یا مکمل طور پر دستبردار ہونے کا فیصلہ کرنے سے پہلے زیادہ سے زیادہ کامیابیاں حاصل کرنا چاہتا ہے۔

ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے رکن محمود عباس زادہ مشکینی نے کہا کہ تہران مذاکرات کو ختم کرنے اور حل کرنے کی کوشش کرتا ہےاور اگر مغربی فریق معاہدے کو مسترد کرتا ہے۔

میشکینی نے اتوار کے روز سرکاری "ارنا" ایجنسی کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ کوئی بھی بین الاقوامی معاہدہ جس میں ضمانتوں کا فقدان ہو، کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں