میجرجنرل ہرتسی ہليفی اسرائیلی فوج کے نئے سربراہ نامزد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی وزیردفاع بینی گینز نے میجرجنرل ہرتسی ہليفی کوملک کا نیا فوجی سربراہ نامزد کیا ہے۔

گینزکے دفتر نے اتوار کو ایک بیان میں بتایا کہ ہرتسی ہليفی اس وقت سبکدوش ہونے والے چیف آف جنرل اسٹاف أفيف كوخافی کے نائب کے طور پرخدمات انجام دے رہے ہیں۔ان کی نامزدگی پر حکومت کی منظوری سے قبل آنے والے دنوں میں ایک مشاورتی کمیٹی غور کرے گی۔

وزارت دفاع نے بتایا کہ جنرل کوخافی کی مدتِ ملازمت ختم ہونے کے بعد میجرجنرل ہليفی آیندہ سال فروری میں اپنا نیا عہدہ سنبھالیں گے۔

بیان کے مطابق کہ بینی گینز نے ہليفی کو’آپریشن کے مختلف تھیٹروں میں وسیع آپریشنل تجربے‘‘اور ’’مختلف فوجی معاملات پر ان کی کمانڈنگ صلاحیتوں اور رویے‘کی وجہ سے آرمی چیف کے عہدے کے لیے’’سب سے موزوں افسر‘‘سمجھا ہے۔

اسرائیلی فوج کی ویب سائٹ کے مطابق ہرتسی ہليفی 1967 میں مقبوضہ بیت المقدس (یروشلم) میں ایک آرتھوڈکس مذہبی یہودی خاندان میں پیدا ہوئے تھے۔وہ 1985 میں پیراٹروپر کے طور پر فوج میں بھرتی ہوئے تھے اور 1993 میں ایلیٹ سییرت متکال کمانڈو یونٹ میں شمولیت اختیار کی تھی۔وہ مختلف کمانڈ عہدوں پرفائزرہے تھے۔

صہیونی فوج نے بتایا کہ انھوں نے 2001 سے تین سال تک سییرت متکال کے کمانڈر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں اور پھر ترقی کرتے ہوئے 2014 میں فوجی انٹیلی جنس کے سربراہ بنے اور 2018 میں انھیں اسرائیلی فوج کی جنوبی کمان کا سربراہ مقرر کیا گیا تھا۔وہ فوجی انٹیلی جنس کے سربراہ کے عہدے پر فائز ہونے والے پہلے آرتھوڈکس یہودی تھے۔

فوج کی ویب سائٹ کے مطابق جنرل ہليفی نے عبرانی یونیورسٹی سے فلسفے اور کاروباری انتظام میں ڈگریاں حاصل کررکھی ہیں اور واشنگٹن کی نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی سے ریسورس مینجمنٹ میں ماسٹرز کیا ہے۔

وہ شادی شدہ اور ان کے چاربچے ہیں۔ وہ کفرہاورنیم میں رہتے ہیں۔یہ اسرائیل کے زیر قبضہ مغربی کنارے میں واقع ایک یہودی بستی ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم یائرلاپیڈ نے ہليفی کو آرمی چیف نامزد کرنے کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے اور اسے ایک ’’قابل قدراور فطری انتخاب‘‘قرار دیا ہے۔لاپیڈ نے ایک بیان میں کہا کہ ’’مجھے یقین ہے، وہ آئی ڈی ایف (اسرائیلی دفاعی افواج) کو بہت سی اہم کامیابیوں کی طرف لے جائیں گے‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں