ایران مظاہرے

وائٹ ہاؤس کی ایران میں پُرامن مظاہروں کے خلاف کریک ڈاؤن پر تنقید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

وائٹ ہاؤس نے ایران میں پُرامن مظاہروں کے خلاف سکیورٹی فورسز کے کریک ڈاؤن کی مذمت کی ہے۔

وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرین ژاں پیری نے سوموارکے روز صدرجوبائیڈن کے ساتھ پورٹو ریکو کا سفرکرنے والے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم ان اطلاعات سے پریشان اور حیران ہیں کہ سکیورٹی حکام یونیورسٹی کے طالب علموں کے پرامن احتجاج کا پُرتشدد اور بڑے پیمانے پر گرفتاریوں سے جواب دے رہے ہیں‘‘۔

ایران میں یہ احتجاج دو ہفتے قبل 22 سالہ مہسا امینی کی اخلاقی پولیس کے زیرحراست ہلاکت کے ردعمل میں کیاجا رہا ہے۔انھیں سکیورٹی فورسز نے ’نامناسب‘ حجاب پہننے پرمبیّنہ طور پرماراپیٹا تھا۔

ژاں پیری نے کہاکہ ایران میں یونیورسٹی کے طالب علم ان کی موت پر’بجاطور پرمشتعل‘ ہیں اوراختتام ہفتہ پرہونے والے کریک ڈاؤن ایسے واقعات ہی ایرانی نوجوانوں کوملک چھوڑنے اور کہیں اورباعزت مواقع تلاش کرنے پرمجبورکرتے ہیں۔

انھوں نے اس بات کاکوئی اشارہ نہیں دیا کہ اس کریک ڈاؤن سے ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کی بحالی کے لیے امریکا کی سفارتی کوششوں پر کوئی اثر پڑے گا لیکن فی الوقت دونوں ملکوں کے درمیان جوہری معاہدے پر مذاکرات کا تعطل کا شکار ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں