سعودی عرب کی برقی کارسازکمپنی سیرکے پہلے سی ای او کا تقرر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

سعودی عرب کی برقی گاڑیاں(ای وی) بنانے والی نئی کمپنی سیرنے جیمز ڈیلوکا کواپنا پہلا چیف ایگزیکٹو آفیسر(سی ای او)مقررکرنے کا اعلان کیا ہے۔سعودی عرب کے پبلک انویسٹمنٹ فنڈ نے رواں ماہ کے اوائل میں اس کمپنی کے قیام کا اعلان کیا تھا۔

اس کے نئے سی ای او جیمز ڈیلوکاموٹرسازی کے شعبے میں وسیع تجربہ کے حامل ہیں۔انھوں نے قریباً 40 سال تک جنرل موٹرز میں مختلف عہدوں پرکام کیا۔وہ ترقی کرتے ہوئے اس عالمی مینوفیکچرنگ کارپوریشن کے ایگزیکٹو نائب صدرکے عہدے پرفائز ہوئے تھے۔اس کے دنیا کے 31 ممالک میں 200،000 سے زیادہ ملازمین کا انتظام ان کے ذمے تھا۔

انھوں نے ویت نام میں قائم کارسازکمپنی ون فاسٹ کی پہلے سی ای او کی حیثیت سے قیادت کی۔برقی گاڑیاں بنانے والی یہ کمپنی 2017 میں قائم کی گئی تھی۔

ڈیلوکا نے ایک بیان میں کہاکہ’’میں سیر کو ایک کار برانڈ میں تبدیل کرنے کا منتظرہوں جسے سعودی صارفین کے ساتھ ساتھ وسیع ترصنعت دونوں کی طرف سے سراہاجائے‘‘۔

سیر سعودی عرب کے آٹوموٹیوکے شعبے کی ترقی میں اہم کردارادا کرے گی اور اس سے آٹوموٹیو انڈسٹری کو فائدہ ہوگا کیونکہ ملک اور وسیع ترخطے میں الیکٹرک گاڑیوں کو مرکزی دھارے میں لانے کے لیے مزید برقی کارسازادارے بھی مشرقِ وسطیٰ کا رُخ کریں گے۔

سیرسعودی عرب کے پبلک انویسٹمنٹ فنڈ اور تائیوان کے کارخانہ دار فاکس کون کا مشترکہ منصوبہ ہے۔یہ کمپنی سعودی عرب اورمشرقِ اوسط اور شمالی افریقا کے خطے میں صارفین کے لیے گاڑیوں کی ایک رینج ڈیزائن ، تیاراورفروخت کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔اس میں سیڈان اور اسپورٹس یوٹیلیٹی گاڑیاں شامل ہیں۔

سیر کی ہرگاڑی سعودی عرب ہی میں ڈیزائن اورتیارکی جائے گی۔اس سے ملک کے مینوفیکچرنگ کے مقامی شعبے کو بڑا فروغ مل سکتا ہے۔

سعودی پریس ایجنسی نے اطلاع دی ہے کہ سیر مملکت میں 15 کروڑڈالر سے زیادہ کی براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے اور 30،000 براہ راست اور بالواسطہ ملازمتیں پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ 2034 تک سعودی عرب کی جی ڈی پی میں آٹھ ارب ڈالر سالانہ کا حصہ ڈالنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ کمپنی نے 2025 تک برقی گاڑیوں کی فروخت شروع کرنے کا ہدف مقرر کیاہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں