یمن میں امریکی فوج کے مبیّنہ فضائی حملے میں القاعدہ کا اہم رہنما ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

جنگ زدہ یمن میں بدھ کو امریکی فوج کے مشتبہ فضائی حملے میں القاعدہ کا ایک سینیررہ نما ہلاک ہوگیا ہے۔

یمن کے ایک سکیورٹی عہدہ دار نے نام ظاہرنہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ جزیرہ نما عرب میں القاعدہ (اے کیو اے پی) کا ایک سرکردہ رہنما حماد بن حمودالتمیمی فضائی حملے میں ایک محافظ سمیت ہلاک ہوا ہے۔یمن میں القاعدہ کی اس شاخ کو امریکاعالمی شدت پسند نیٹ ورک کی سب سے خطرناک تنظیم قراردیتا ہے۔

اس عہدہ دارکے مطابق یمن کے شمالی صوبہ مآرب میں ایک گھر کو فضائی حملے میں نشانہ بنایاگیا ہے۔التمیمی نے حال ہی میں یہ گھرکرائے پر لیا تھا۔مآرب کی صوبائی حکومت کے ایک عہدہ دار نے بھی نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر فضائی حملے میں ان ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ تمیمی عبدالعزیزالعدنانی کے نام سے بھی جانا جاتا تھا۔ وہ جزیرہ نما عرب میں القاعدہ کی قیادت کونسل کا سربراہ رہا تھا اوراس نے سخت گیر جنگجوگروپ کے’’جج‘‘کے طورپرکام کیا تھا۔

مآرب کے ایک عہدہ دار نے بتایا کہ القاعدہ کی مشاورتی کونسل کے صدر اور جج عبدالعزیز العدنانی کو یمنی محافظ سمیت ہلاک کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ اے کیو اے پی نے یمن میں ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں اور سرکاری فورسز دونوں کے خلاف کارروائیاں کی ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ بیرون ملک بھی وقفے وقفے سے حملے کیے ہیں۔

امریکا یمن میں اس گروپ کے رہ نماؤں کو گذشتہ دو عشرے سے زیادہ عرصے سے ڈرون حملوں میں نشانہ بنارہا ہے۔البتہ حالیہ برسوں میں اس کے میزائل اور ڈرون حملوں کی تعداد میں کمی آئی ہے۔

اس حملے سے ایک ماہ قبل صوبہ مآرب ہی میں ایک کار کومشتبہ امریکی ڈرون حملے میں نشانہ بنایا گیا تھا۔اس میں اے کیو اے پی کے تین مبینہ جنگجو ہلاک ہوگئے تھے۔

یمن سنہ 2014ء سے تنازعات کا شکارہے۔تب حوثی باغیوں نے دارالحکومت صنعاء پر قبضہ کرلیا تھا۔اس کے ردعمل میں عرب اتحاد نے یمن کی عالمی سطح پر تسلیم شدہ صدر(اب سابق) عبد ربہ منصور ہادی کی حکومت کی حمایت میں مداخلت کی تھی۔اس کے بعد سے اس تنازع میں ہزاروں افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور اقوام متحدہ نے اسے دنیا کا بدترین انسانی بحران قراردیا ہے۔جنگ کے نتیجے میں اس وقت بھی لاکھوں افراد بے گھرہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں