البغدادی کےٹھکانے سے، سونا، اسلحہ اور ایک ملین ڈالر رقم برآمد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

گذشتہ برسوں کے دوران داعش کی دولت کے بارے میں کافی قیاس آرائیاں ہوتی رہی ہیں۔ داعش نے دولت کہاں کہاں سے اور کن طریقوں سے حاصل کی۔ شدت پسند تنظیم کے حوالے سے یہ ایک اہم سوال رہا ہے۔ چونکہ داعش پر شام اور عراق کے زیر کنٹرول علاقوں سے نوادرات کی اسمگلنگ کے ، تیل کی فروخت کا الزام رہا ہے مگران نوادرات کا عام لوگوں کو بہت کم حصہ ملا۔

سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق شام کی ڈیموکریٹک فورسز "قصد" اور اس کے ساتھ اتحادی امریکی افواج کی جانب سے چند روز قبل مارے گئے ایک چھاپے میں ایک فارم میں چھپایاگیا سونا اور رقم کے بیرل برآمد ہوئے۔

البغدادی کی قیام گاہ

انہوں نے مزید کہا کہ امریکیوں اور "ایس ڈی ایف" کو رقہ کے جنوبی مضافات میں واقع کسرا فرج کے علاقے میں واقع ایک فارم میں رقم اور سونا ملا ہے، جسے "البغدادی کا فارم" کہا جاتا ہے، کیونکہ داعش کے سربراہ ابوبکر البغدادی کی تنظیم اس علاقے پر تسلط جمائے ہوئے تھی۔

یہ چھاپہ ایک خفیہ ٹھکانے کی موجودگی کی اطلاع کے بعد مارا گیا، جہاں سے درحقیقت احتیاط سے تین کمروں میں چھپائے گئے کمروں میں چار بیرل ملے جن میں سونا اور رقم چھپائی گئی تھی جس کی مالیت ایک ملین ڈالر سے زیادہ ہے۔

اس ٹھکانے پر چھاپے کے دوران رقم اور سونے کے علاوہ اسلحہ بھی ملا ہے۔ یہ رقم اور اسلحہ مبینہ طور پر داعش کی طرف سے شمالی شام میں کرد ڈیموکریٹک فورسز کے خلاف استعمال کی جاتی تھیں۔
خفیہ ٹھکانے سےملنے والی رقم مبینہ طور پر شمالی شام میں کرد ڈیموکریٹک فورسز کے خلاف استعمال کی جاتی تھیں۔
خفیہ ٹھکانے سےملنے والا اسلحہ اور رقم ایس ڈی ایف اور امریکی فوج کےمشترکہ گودام میں منتقل کردیا گیا۔

قابل ذکر ہے کہ داعش نے 2014 میں رقہ کا کنٹرول سنبھال لیا تھا۔ اسے 2017 میں بین الاقوامی اتحاد کی جانب سے ایک جامع فوجی آپریشن کے ذریعے شکست دی گئی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں