2022ء میں سعودی عرب کافوجی اخراجات کے لحاظ سے دنیا میں پانچواں نمبر

سعودی عرب کے فوجی اخراجات 75 ارب ڈالر تک پہنچ گئے،ایک سال پہلے کے مقابلے میں 16 فی صد زیادہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سویڈن میں قائم اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (ایس آئی پی آرآئی) کی 2022ء میں عالمی فوجی اخراجات سے متعلق رپورٹ کے مطابق سعودی عرب نے برطانیہ، جرمنی اور فرانس کو پیچھے چھوڑدیا ہے اور وہ دنیا میں فوجی اخراجات کے لحاظ سے پانچواں سب سے بڑا ملک بن گیا ہے۔

سال 2022ء میں سعودی عرب کے فوجی اخراجات 75 ارب ڈالر تک پہنچ گئے تھے اوریہ اس سے ایک سال پہلے کے مقابلے میں 16 فی صد زیادہ ہیں۔تب وہ عالمی سطح پرفوجی اخراجات میں آٹھویں نمبر پر تھا۔7۰4 فی صد اضافے کے ساتھ سعودی عرب نے یوکرین کے علاوہ کسی بھی دوسرے ملک کے مقابلے میں دفاع پر اپنی جی ڈی پی کا زیادہ خرچ کیا ہے۔

پورے مشرق اوسط کے خطے نے 2022 میں دفاع پر 184 ارب ڈالر خرچ کیے۔اس کے مقابلے میں اسرائیل کے دفاعی اخراجات 4.2 فی صد کم ہوکر 23.4 ارب ڈالر رہ گئے ہیں کیونکہ اس نے اپنے بجٹ کو متوازن رکھنے کے لیے کٹوتیاں کی ہیں۔

مجموعی طور پر عالمی فوجی اخراجات میں 3.4 فی صد اضافہ ہوا اور یہ 22کھرب 20 ارب (2.2 ٹریلین) ڈالر کی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔

یوکرین میں جاری جنگ کے دوران میں یورپی فوجی اخراجات میں گذشتہ 30 برسوں میں سال بہ سال کی بنیاد پرسب سے زیادہ اضافہ دیکھا گیا ہے۔

دنیامیں مجموعی طورپر دفاع پرسب سے زیادہ خرچ کرنے والے تین ممالک امریکا، چین اور روس ہیں۔ دنیا کے مجموعی دفاعی اخراجات میں ان کا حصہ 56 فی صدہے جبکہ سعودی عرب کا حصہ 3.3 فی صد ہے۔

یوکرین مجموعی طور پر 11 ویں نمبر پر ہے۔اس نے اپنے اخراجات کو 640 فی صد بڑھا کر 44 ارب ڈالر یا اس کی جی ڈی پی کا 34 فی صد کردیا۔

قابل ذکربات یہ ہے کہ متحدہ عرب امارات کو ایس آئی پی آر آئی کے اعداد وشمار کواس رپورٹ میں شامل نہیں کیا ہے۔اس نے 2016 کی ایک علاحدہ رپورٹ میں کہا تھاکہ 2014 کے بعد سے اس ملک کے فوجی اخراجات سرکاری طور پر دستیاب نہیں ہیں۔
ایس آئی پی آر آئی کے فوجی اخراجات اور اسلحہ کی پیداوارکے پروگرام کے سینیر محقق ڈاکٹر نان تیان نے ایک بیان میں کہا کہ اخراجات میں اضافہ اس بات کی علامت ہے کہ ہم تیزی سے غیرمحفوظ دنیا میں رہ رہے ہیں۔

انھوں نے مزید کہا:’’ریاستیں سلامتی کے بگڑتے ہوئے ماحول کے جواب میں فوجی طاقت میں اضافہ کررہی ہیں،جس میں انھیں مستقبل قریب میں بہتری نظر نہیں آتی ہے‘‘۔

ایس آئی پی آر آئی میں مسلح افواج، وزارت دفاع اور دفاع، نیم فوجی دستوں اور فوجی خلائی سرگرمیوں میں شامل دیگر سرکاری ایجنسیوں کے اعدادوشمار شامل ہیں۔اس میں تن خواہوں، پنشن اور سماجی خدمات سمیت اہل کاروں کی دیکھ بھال، خریداری، تحقیق اور فوجی امداد پراخراجات شامل ہیں۔

شہری دفاع اور موجودہ فوجی سرگرمیوں پراخراجات بشمول سابق فوجیوں کی مراعات اور فوائد، ڈی موبلائزیشن، ہتھیاروں کی تلفی اورغیر فوجی سرگرمیوں (جیسے پولیس کاری) میں فوج کی شمولیت وغیرہ کے اخراجات کو اس رپورٹ میں شامل نہیں کیا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں