برطانیہ کے شاہ چارلس سوم کی لندن کے ویسٹ منسٹرایبی میں تاج پوشی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

برطانیہ کے بادشاہ چارلس سوم کو ہفتے کے روزویسٹ منسٹر ایبی میں منعقدہ شاہانہ تقریب میں تاج پہنادیا گیا ہے۔برطانیہ میں تاج پوشی کی یہ رسمی تقریب کوئی سات دہائیوں کے بعد منعقد ہوئی ہے۔اس میں قریباً 100 عالمی رہنماشریک تھے اور لاکھوں ناظرین نے اس کو ٹیلی ویژن پربراہ راست دیکھا ہے۔

اینگلیکن چرچ کے روحانی پیشوا کینٹربری کے آرچ بشپ نے سینٹ ایڈورڈ کا 360 سال پرانا تاج شاہ چارلس کے سر پررکھا۔وہ ویسٹ منسٹر ایبی میں 14 ویں صدی کے تخت پر جلوہ افروز ہوئے تھے۔رسم تاج پوشی 1066 میں 74 سالہ ولیم فاتح کے زمانے سے چلی آرہی ہے۔

چارلس کی دوسری بیوی 75 سالہ کمیلا کو اس تقریب کے دوران میں ملکہ کا تاج پہنایا گیا ہے۔اس رسم کی جڑیں اگرچہ تاریخ میں پیوست ہیں، لیکن یہ ایک ترقی پسند بادشاہت پیش کرنے کی بھی ایک کوشش ہے، جس میں خدمات میں شامل افراد زیادہ متنوع برطانیہ کی عکاسی کرتے ہیں۔

برطانیہ یورپی یونین سے نکلنے کے بعد سیاسی میدان میں اپنا راستہ تلاش کرنے اور ایک نئے عالمی نظام میں اپنا مقام برقرار رکھنے کے لیے جدوجہد کررہا ہے جبکہ برطانیہ میں بادشاہت کے حامیوں کا کہنا ہے کہ شاہی خاندان ایک بین الاقوامی کشش، ایک اہم سفارتی ہتھیار اور عالمی سطح پر رہنے کا ایک ذریعہ فراہم کرتا ہے۔

برطانوی وزیراعظم رشی سوناک نے کہا:’’"کوئی اور ملک اس طرح کا شاندار مظاہرہ نہیں کر سکتا – جلوس، جشن، تقریبات اور سڑکوں پر پارٹیاں منعقد ہورہی ہیں لیکن ان کے اس جوش وخروش کے باوجود تاج پوشی کی یہ رسم برطانیہ میں زندگی کے بحران اور بادشاہت کے کردار اور مطابقت کے بارے میں عوامی شکوک وشبہات کے تناظرمیں ہورہی ہے ارو بالخصوص نوجوانوں میں شکوک وشبہات پائے جاتے ہیں۔

ہفتے کے روز تاج پوشی کی تقریب 1953 میں ملکہ ایلزبتھ کے مقابلے میں چھوٹے پیمانے پر منعقد کی گئی ہے، لیکن اس کے باوجود اسے شاندار بنانے کی کوشش کی گئی، جس میں سنہری رنگوں اور زیورات سے بھری تلواروں سے لے کر دنیا کے سب سے بڑے بے رنگ کٹے ہوئے ہیرے کو تھامے ہوئے تاریخی شاہی کلمات پیش کیے گئے ہیں۔

چارلس نے گذشتہ سال ستمبر میں اپنی والدہ کی وفات کے بعد ولی عہد کی حیثیت سے خود ہی بادشاہ بن گئے تھے اور ان کی تاج پوشی ضروری نہیں تھی لیکن تاج پوشی کی رسم کو عوامی سطح پر بادشاہ کو قانونی حیثیت دینے کا ایک ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔

تقریب کے دوران میں سرخ رنگ کی وردیوں اور کالے ریچھ کی کھال کی ٹوپیوں میں ملبوس سیکڑوں فوجی بکنگھم پیلس جانے والے عظیم الشان بلیوارڈ مال کے راستے پرقطار میں کھڑے تھے۔دسیوں ہزار لوگوں نے ہلکی بارش کو نظراندازکرتے ہوئے نئے بادشاہ کو دیکھنے کے لیے آئے تھے۔

تاہم وہاں موجود تمام افراد شاہ چارلس سوم کی حوصلہ افزائی کے لیے نہیں آئے تھے، وہاں سیکڑوں جمہوریت پسند موجود تھے انھوں نے نعرے لگائے اور بینر لہرائے جن پر لکھا تھا کہ ’’یہ میرا بادشاہ نہیں‘‘۔

کسی بھی ناخوش گوار صورت حال سے نمٹنے کے لیے 11,000 سے زیادہ پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا گیا تھا۔ لندن پولیس نے بادشاہت مخالف ری پبلک گروپ کے رہنما گراہم اسمتھ کو پانچ دیگر مظاہرین سمیت گرفتارکرلیاہے۔

قانون سازکلائیو لیوس نے، جوبادشاہت کے خلاف مظاہرین میں شامل تھے،کہا:’’یہ ایک غیر مساوی اور پرانے نظام کی علامت ہے کیونکہ اس میں ایک موروثی ارب پتی شخص ہے جو دولت اور استحقاق میں پیدا ہوا ہے اور وہ بنیادی طور پر ہمارے معاشرے میں دولت اور طاقت کی عدم مساوات کی علامت ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ تقریب کے زیادہ تر حصے میں ایسے عناصر شامل تھے جنہیں چارلس کے 973ء میں بادشاہ ایڈگر کے پیش رو تسلیم کرتے تھے۔ہینڈل کا تاج پوشی کا ترانہ "زادوک دی پادری" 1727 کے بعد سے ہر تاج پوشی میں گایا جاتا رہا ہےلیکن اس کے علاوہ ایک نیا ترانہ بھی شامل تھا ۔یہ اینڈریو لائیڈ ویبر کا تیار کردہ ترانہ تھا، جو اپنے ویسٹ اینڈ اور براڈوے تھیٹر شوز کے لیے مشہور تھااورایک انجیل پڑھنے والا گائیک بھی تقریب میں شامل تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں