روس اور یوکرین

روس کے ویگنر گروپ کے سربراہ پریگوژن کا بَخموت پرمکمل کنٹرول کا دعویٰ

’’آج جب آپ بائیڈن سے ملیں تو ان کے سر پربوسہ دیں، میری طرف سے انھیں ہیلو کہیں‘‘:زیلنسکی پرطنزیہ وار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

روس کے نیم فوجی جنگجو گروپ ویگنرکے سربراہ یوفگینی پریگوژن نے ہفتے کے روز یوکرین کے شہر بَخموت پرمکمل کنٹرول کا دعویٰ کیا ہے۔

پریگوژن نے ٹیلی گرام پر جاری کردہ ایک ویڈیومیں یہ دعویٰ کیا ہے۔اس میں وہ روسی جھنڈے اور ویگنر کے بینراٹھائے جنگجوؤں کی ایک قطارکے سامنے جنگی وردی میں نظر آئے ہیں۔

پریگوژن نے کہا:’’آج 20 مئی کو دوپہر 12 بجے، بَخموت کامکمل طور پر کنٹرول حاصل کرلیا گیا ہے‘‘۔انھوں نے کہاکہ ان کی فورسز آرام اور بحالی کے لیے 25 مئی سے بَخموت سے واپس چلی جائیں گی۔

انھوں نے کہا:’’ہم نے تمام شہر کو گھر بہ گھر، قبضے میں لے لیا ہے‘‘۔ویڈیو میں جب پریگوژن بول رہے تھے تو پس منظر میں دورونزدیک سے دھماکوں کی آوازیں سنی جا سکتی تھیں۔

تاہم ان کے اس دعوے کی آزادانہ طورپر تصدیق نہیں ہوسکی جبکہ یوکرین نے اس دعوے کی تردید کی ہے مگراپنی اس تردید کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔

پریگوژن نے اپنے ویڈیو بیان میں یوکرین کے صدر ولودی میر زیلینسکی اور امریکی صدر جو بائیڈن پر طنز کیا جو ہفتے کے روز جاپان کے شہر ہیروشیما میں ہونے والے گروپ سات کے سربراہ اجلاس میں شریک تھے۔یوکرین کی جنگ عالمی رہنماؤں کے اس اجلاس کے ایجنڈے میں سرفہرست تھی۔

پریگوژن نے زیلنسکی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’’آج جب آپ بائیڈن سے ملیں تو ان کے سر پر بوسہ دیں، میری طرف سے انھیں ہیلو کہیں‘‘۔

پریگوژن نے ماضی میں بار بار شکایت کی تھی کہ ان کی فورسزکو ضرورت سے کہیں زیادہ بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے اور یہ سب فوج کی طرف سے ناکافی حمایت اور گولہ بارود کی عدم دستیابی کی وجہ سے ہوا ہے۔

رواں ماہ کے اوائل میں انھوں نے وزیر دفاع سرگئی شوئگو کے خلاف خون میں لت پت لاشوں کے میدان میں کھڑے ہو کر شدید تنقید کی تھی اور اپنے فوجیوں کو محاذِ جنگ سے واپس بلانے کی دھمکی دی تھی۔

انھوں نے ہفتے کے روز جاری کردہ ویڈیو میں کہا کہ روسی بیوروکریسی ،وزیردفاع شوئیگو اور چیف آف اسٹاف ویلری گیراسیموف کی 'من مانی' کی وجہ سے ان کی پانچ گنا زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

ان کی فتح کا دعویٰ گذشتہ ہفتے شہر کے ارد گرد شدید لڑائی کے بعد سامنے آیا ہے۔تب یوکرین نے کہا تھا کہ اس نے کچھ روسی افواج کو پیچھے دھکیل دیا ہے۔

دریں اثناء برطانوی دفاعی انٹیلی جنس نے کہا ہے کہ اس بات کا قوی امکان ہے کہ روس نے بَخموت سیکٹر کو مضبوط بنانے کے لیے کئی بٹالین تعینات کی ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ 'روسی کمان کی جانب سے قابل ذکر عزم کی عکاسی کرتا ہے اورروسی قیادت ممکنہ طور پر بخموت پر قبضے کو فوری جنگ کے اہم مقصد کے طور پر دیکھ رہی ہے جس سے وہ تنازع میں کسی حد تک کامیابی کا دعویٰ کر سکیں گے۔

پریگوژن نے خود تسلیم کیا ہے کہ جنگ سے پہلے 70،000 افراد کی آبادی والے شہر بَخموت کی کوئی تزویراتی اہمیت نہیں تھی ، لیکن لڑائی کی شدت اور بڑے پیمانے پر نقصانات کی وجہ سے اس نے دونوں فریقوں کے لیے بہت بڑی علامتی اہمیت اختیار کرلی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں