ایران جوہری معاہدہ

ایران کی بعض جوہری تنصیبات میں آئی اے ای اے کے نگرانی کے آلات کی دوبارہ تنصیب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے نے 2015 میں ایران کے بڑی طاقتوں کے ساتھ طے شدہ جوہری معاہدے کے تحت بعض تنصیبات میں نگرانی کے کچھ آلات دوبارہ نصب کردیے ہیں۔انھیں ایران نے گذشتہ سال ہٹانے کا حکم دیا تھا۔

یہ آلات ویانا میں قائم بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے ایران کی جوہری سرگرمیوں کی نگرانی کے عمل کو بہتر بنانے کے لیے وضع کردہ سازوسامان کا حصہ ہیں۔آئی اے ای اے نے ایران کے ساتھ مارچ میں ان آلات کی تنصیب سے اتفاق کیا تھا تاکہ ایران کے جوہری ادارے سے تعاون پر دونوں فریقوں کے درمیان تعطل کو ختم کیا جا سکے۔

ایک سینیر سفارت کار نے بتایا کہ نطنز اور فردو میں یورینیم کوخالص 60 فی صد تک افزودہ کرنے والے سینٹری فیوجز کی لائنوں پر نگرانی کے آلات نصب کیے گئے ہیں۔ان سے یورینیم افزودگی کی حقیقی وقت میں نگرانی ہوسکے گی۔

رکن ممالک کو بھیجی جانے والی دو خفیہ سہ ماہی رپورٹوں میں سے ایک کے مطابق ایران کے پاس 60 فی صد تک افزودہ یورینیم کے ذخیرے میں مسلسل اضافہ رہا ہے اوراب اس کے پاس دستیاب افزودہ یورینیم قریباً دو جوہری بموں کے لیے کافی ہے۔

ایران فردو تنصیب میں یورینیم افزودگی کے پروگرام کو مسلسل آگے بڑھا رہا ہے اور وہاں وہ بتدریج توسیع اور تیزی لا رہا ہے۔فردو کو ممکنہ فضائی حملے سے بچانے کے لیے ایک پہاڑ کے اندرتعمیر کیا گیا تھا۔

آئی اے ای اے کی بدھ کو جاری کردہ ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران کے پاس اب 114.1 کلوگرام یورینیم ہے جو 60 فی صد تک افزودہ ہے اور یہ یورینیم ہیکسا فلورائڈ (یو ایف 6) کی شکل میں ہے، جسے آسانی سے مزید افزودہ کیا جاسکتا ہے - پچھلی سہ ماہی کے مقابلے میں یہ مقدار 26.6 کلوگرام زیادہ ہے۔

آئی اے ای اے کا کہنا ہے کہ قریباً 42 کلو گرام یورینیم 60 فی صد تک افزودہ ہے جس کی تعریف جوہری مواد کی تخمینہ مقدار کے طور پر کی گئی ہے۔اس بنا پرجوہری دھماکاخیز ڈیوائس کی تیاری کو خارج از امکان قرارنہیں دیا جا سکتا۔

تاہم ایک سینیر سفارت کار نے خبردار کیا ہے کہ عملی طور پر ایک بم بنانے کے لیے 55 کلو گرام سے زیادہ افزودہ یورینیم درکار ہوتا ہے اور یہ 60 فی صد تک افزودہ ہونا چاہیے۔

ایران کے پاس افزودہ یورینیم کے کل ذخیرے میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور اب اس کی مقدار 2015 کے معاہدے کے تحت عاید کردہ 202.8 کلوگرام کی حد سے 23 گنا بڑھ چکی ہے،اور یہ 4.7 ٹن ہے۔

آئی اے ای اے نے یہ بھی بتایا کہ تین مقامات پر پائے جانے والے یورینیم کے ذرّات کی وضاحت کے سلسلے میں ایران نے پہلی مرتبہ ان میں سے ایک پر تسلی بخش جواب دیا تھا تاکہ وہاں یورینیم کے ذرّات کی موجودگی کی وضاحت کی جا سکے حالانکہ گذشتہ برسوں کی تحقیقات میں پیش رفت نہیں ہوئی تھی۔

ایک سینیر سفارت کار کا کہنا تھا کہ اگرچہ ان ذرّات کی وضاحت وہاں سوویت دور کی بارودی سرنگ اور لیبارٹری کی موجودگی سے کی جا سکتی ہے اور ادارے کے پاس مزید کوئی سوال نہیں ہے، لیکن آئی اے ای اے کا اندازہ یہی ہے کہ ایران نے کئی سال پہلے وہاں دھماکا خیز مواد کا تجربہ کیا تھا اور یہ جوہری ہتھیاروں سے متعلق تھا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ آئی اے ای اے کے نگرانی کے اضافی آلات میں اصفہان میں ایک مقام پر نگرانی کے کیمرے شامل ہیں جہاں سینٹری فیوجز کے پرزے بنائے گئے ہیں۔ادارہ نگرانی کے مزید آلات کی تنصیب اور دو باقی مقامات،جہاں یورینیم کے ذرّات پائے گئے ہیں، سمیت امورکو حل کرنے کے لیے ایران کی شمولیت کا انتظار کر رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں