ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں کمرشل جہاز کا راستہ روکنے کی کوشش کی گئی: واشنگٹن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

امریکی بحریہ نے آج پیر کو دعویٰ کیا ہے کہ اس کے ملاحوں اور برطانوی رائل نیوی کے ارکان نے آبنائے ہرمز میں ایک بحری جہاز کی مدد کی جب اسے ایرانی پاسداران انقلاب سے تعلق رکھنے والی تیز رفتار کشتیوں نےروکنے کی کوشش کی تھی۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق بحریہ نے ایک بیان میں مزید کہا کہ مسلح سپاہیوں کے ساتھ تین اسپیڈ بوٹس اتوار کو نامعلوم تجارتی جہاز کے قریب پہنچیں۔

بحریہ نے سیاہ اور سفید تصاویر دکھائیں جو اس نے بوئنگ B-8 پوسیڈن طیارے سے لی تھیں۔ ان میں دیکھا جا سکتا ہے کہ تین تیز حملہ کرنے والی کشتیاں تجارتی جہاز کے قریب آ رہی تھیں۔

امریکی بحریہ کے جنگی بیڑے "یو ایس ایس میک فال" اور رائل نیوی کے فریگیٹ "ایچ ایم ایس لنکاسٹر" نے اس واقعے کا جواب دیا اور فریگیٹ لنکاسٹر نے وہاں ہیلی کاپٹر روانہ کیا۔

امریکی بحریہ کی جانب سے ایرانی کشتیوں کو روکنے کے لیے شائع کی گئی تصاویر
امریکی بحریہ کی جانب سے ایرانی کشتیوں کو روکنے کے لیے شائع کی گئی تصاویر

امریکی بحریہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ صورتحال تقریباً ایک گھنٹے بعد اس وقت خراب ہو گئی جب تجارتی جہاز نے تیز حملہ کرنے والی کشتیوں کی آمد کی تصدیق کی۔"

بحریہ نے مزید کہا کہ تجارتی جہاز مزید واقعات کے بغیر آبنائے ہرمز کو عبور کرتا رہا۔

ایران خاموش

دوسری جانب ایران کے سرکاری میڈیا اور پاسداران انقلاب نے اس واقعے کو تسلیم نہیں کیا اور اقوام متحدہ میں ایران کے مشن نے اے پی کی جانب سے پوچھے گئے سوال کا جواب نہیں دیا۔

خیال رہے کہ آبنائے ہرمز سے خلیج فارس کے قریب ایک آبی گذرگاہ ہے جس سے دنیا بھر کے تیل کی 20 فی صد سپلائی ہوتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں