افغانستان: حکام نے ناروے کی پناہ گزین کونسل میں لڑکیوں کو ملازمت کی اجازت دے دی
سخت گیر طالبان تحریک کی افغانستان میں قائم حکومت کی طرف سے خواتین کی ملازمت پر عائد پابندیوں کے حوالے سے موقف میں نرمی دیکھنے میں آئی ہے۔
افغانستان میں طالبان کی طرف سے خواتین کی ملازمت پر عاید پابندیوں کے باوجود طالبان حکومت نے پیر کے روز ناروے کی پناہ گزین کونسل کو افغانستان کے متعدد صوبوں میں اپنے دفاتر میں لڑکیوں کو ملازمت پر رکھنے کی اجازت دی ہے۔
ناروے کی پناہ گزینوں کی کونسل کے سیکرٹری جنرل یان ایگلینڈ نے مائیکرو بلانگ ویب سائٹ ‘ٹوئٹر’ پر ایک ٹویٹ میں کونسل میں ملازمت کرنے کے لیے افغان لڑکیوں کی واپسی اور قندھارسمیت افغانستان کے دیگر علاقوں میں انسانی بنیادوں پر سرگرمیوں کی بحالی کی تصدیق کی ہے۔
I am glad to confirm that we have been able to resume most of our humanitarian operations in Kandahar as well as a number of other regions in Afghanistan.
— Jan Egeland (@NRC_Egeland) June 5, 2023
All our work is for women & men, girls & boys alike, & with equal participation of our female & male humanitarian colleagues
انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان میں انسانی امدادی سرگرمیوں میں مرد و خواتین کو یکساں مواقعے فراہم کیے گئے ہیں۔
خواتین کی ملازمت پر پابندی حجاب کی شکایات کی وجہ سے لگا دی گئی تھی.
واضح رہے کہ 24 دسمبر 2022 کو طالبان حکام نے ملک میں کام کرنے والی 1,260 غیر سرکاری تنظیموں میں افغان خواتین کی ملازمت پرپابندی لگا دی تھی۔
طالبان حکام کا کہنا تھا کہ انہیں خواتین کے اسلامی لباس، حجاب پہننے اور جسم اور چہرے کو ڈھانپنے سے متعلق "سنگین شکایات" موصول ہوئی تھیں جس کے بعد خواتین کی ملازمت پرپابندی عاید کی گئی تھی ، تاہم اقوام متحدہ نے طالبان کے اس فیصلے کو مسترد کردیا تھا۔
دنیا کے بدترین انسانی بحرانوں کا سامنا کرنے والےملک افغانستان میں تقریباً 23 ملین مرد خواتین اور بچے انسانی امداد سے مستفید ہوتے ہیں اور ان کا انحصار غیر ملکی امداد پر ہوتا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ افغانستان میں اقوام متحدہ کے لیے تقریباً 3900 افراد کام کرتے ہیں، جن میں سے 3300 افغان شہری ہیں۔ اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق ان ملازمین میں تقریباً 600 خواتین ہیں جن میں سے 400 افغان خواتین ہیں۔
اگست 2021 میں افغانستان میں اقتدار سنبھالنے والی تحریک طالبان نے لڑکیوں کو چھٹی جماعت کے بعد اسکول جانے سے روک دیا ہے۔ طالبان کی طرف سے لڑکیوں کی یونیورسٹیوں میں تعلیم اور ملازمت پر پابندی عاید کی گئی ہے۔ خواتین کو پارکس جیسے عوامی مقامات اور جم جانے سے بھی روک دیا گیا ہے۔
-
افغانستان میں ہماری خواتین ملازمین کو کام پر آنے سے روک دیا گیا ہے: اقوام متحدہ
اقوام متحدہ کے مشن نے کل منگل کو اعلان کیا ہے کہ اس کی افغان خواتین ملازمین کو ...
بين الاقوامى -
افغانستان میں خواتین کے لیے کوئی لائبریری باقی نہیں رہی
کابل میں خواتین کی کتابوں کی اکلوتی لائبریری افتتاح کے چھ ماہ بعد بند کردی ...
ایڈیٹر کی پسند -
افغانستان میں یونیورسٹیاں دوبارہ کھل گئیں، لیکن خواتین پر تاحال پابندی
موسم سرما کی تعطیلات کے بعد افغان یونیورسٹیاں دوبارہ کھلنے کے بعد پیر کو مرد طلباء ...
بين الاقوامى