روس اور یوکرین

روس میں بغاوت کے بعد گرفتاریوں کی افواہیں؛روس کے اعلیٰ جرنیل عوامی نظروں سے غائب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

روس میں صدر ولادی میر پوتین کی واگنر گروپ کی ناکام بغاوت کے بعد اپنے اقتدار کی بحالی کی کوششوں کے دوران میں سب سے سینیر جرنیل عوامی نظروں سے اوجھل ہو گئے ہیں۔

غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق کم سے کم ایک شخص کو گرفتار کیا گیا ہے۔مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف جنرل ولیری گیراسیموف ہفتے کے روز ہونے والی ناکام بغاوت کے خاتمے کے بعد سے عوامی سطح پر یا سرکاری ٹی وی پر نظر نہیں آئے ہیں جبکہ کرائے کی ملیشیا کے فوجی رہ نما ایوگینی پریگوزن نے گیراسیموف کوحوالے کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔9 جون کے بعد سے وزارت دفاع کی پریس ریلیز میں بھی ان کا ذکر نہیں کیا گیا ہے۔

بعض مغربی فوجی تجزیہ کاروں کے مطابق 67 سالہ گیراسیموف یوکرین میں روس کی جنگ کے کمانڈر ہیں اور روس کے تین "جوہری بریف کیسوں " میں سے ایک کے مالک ہیں۔

جنرل سرگئی سرویکین بھی نظروں سے غائب ہیں۔انھیں روسی پریس نے ان کے جارحانہ انداز کی وجہ سے "جنرل آرماگیڈن" کا لقب دیا ہے۔شام کے تنازع میں حکمت عملی اور یوکرین میں روسی افواج کے نائب کمانڈر ہیں۔

امریکی انٹیلی جنس کی بریفنگ پر مبنی نیو یارک ٹائمز کی ایک رپورٹ میں منگل کے روز کہا گیا تھا کہ جنرل سرویکین کو بغاوت کے بارے میں پیشگی علم تھا اور روسی حکام اس بات کی جانچ کر رہے ہیں کہ آیا وہ اس میں ملوّث تھے یا نہیں۔

کریملن نے بدھ کے روز اس رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس میں بہت سی قیاس آرائیاں اور گپ شپ ہوں گی۔امریکی حکام نے رائٹرز کو بتایا کہ سرویکین پریگوزن کے حامی تھے لیکن مغربی انٹیلی جنس کو یقین سے معلوم نہیں تھا کہ آیا انھوں نے کسی بھی طرح سے بغاوت میں مدد کی تھی یا نہیں۔

ماسکو ٹائمز کے روسی زبان کے ورژن اور ایک فوجی بلاگر نے سرویکین کی گرفتاری کی اطلاع دی ہے جبکہ کچھ دیگر فوجی نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ایف ایس بی سکیورٹی سروس ان سے اور دیگر سینیر افسروں سے ان کی وفاداری کی تصدیق کے لیے پوچھ تاچھ کر رہی ہے۔تاہم اس بات کا تعین نہیّں ہو سکا کہ سرویکین کو گرفتار کیا گیا ہے یا دیگر افراد کے ساتھ ان کی اسکریننگ کی جا رہی ہے۔

روس کی وزارت دفاع کے ایک سابق پریس افسر کے ٹیلی گرام میسجنگ ایپلی کیشن پر بااثر چینل ریبار کا کہنا ہے کہ ان کی تطہیر کا کام جاری ہے۔انھوں نے کہا کہ حکام بغاوت کو کچلنے میں ’’فیصلہ سازی کی کمی‘‘ کا مظاہرہ کرنے والے فوجی اہلکاروں کو ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں کیونکہ بعض اطلاعات کے مطابق مسلح افواج کے کچھ حصوں نے بغاوت کے ابتدائی مرحلے میں واگنر کے جنگجوؤں کو روکنے کے لیے بہت کم کام کیا ہے۔

ریبار نے کہا:’’واگنر کی نجی فوجی کمپنی کی طرف سے مسلح بغاوت روسی مسلح افواج کی صفوں میں بڑے پیمانے پر تطہیر کا ایک بہانہ بن گئی ہے‘‘۔

اگر اس طرح کے اقدام کی تصدیق ہو جاتی ہے تو روس کی جانب سے یوکرین میں جنگ کے طریق کار میں تبدیلی آسکتی ہے جسے وہ 'خصوصی فوجی آپریشن' قرار دیتا ہے اور یہ ایک ایسے وقت میں ہوگا جب ماسکو یوکرین کے جوابی حملے کو ناکام بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔

کون جیتا، کون ہارا؟

روس اور مغرب کے بعض عسکری اور سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ وزیر دفاع سرگئی شوئیگو صدرپوتین کے ایک آزمودہ کار اتحادی ہیں،انھیں پریگوزن ان کی مبینہ نااہلی کی وجہ سے گیراسیموف کے ساتھ اقتدار سے ہٹانا چاہتے تھے لیکن اب حقیقت میں اپنے کام میں زیادہ محفوظ ہو سکتے ہیں۔

کارنیگی انڈومنٹ تھنک ٹینک میں روسی فوجی ماہر مائیکل کوفمین نے ٹویٹر پر لکھا کہ 'میرے خیال میں وہ (پریگوزن) واقعی توقع کر رہے تھے کہ شوئیگو اور گیراسیموف کے بارے میں کچھ کیا جائے گا اور پوتین ان کے حق میں فیصلہ کریں گے۔

گییراسیموف کے نائب سرویکین کو آخری بار ہفتے کے روز اس وقت دیکھا گیا تھا جب وہ ایک ویڈیو میں پریگوزن سے بغاوت روکنے کی اپیل کرتے ہوئے نظر آئے تھے۔وہ تھکے ہوئے لگ رہے تھا اور یہ واضح نہیں تھا کہ آیا وہ دباؤ میں بول رہے تھے یا نہیں۔

تھنک ٹینک رینڈ کارپوریشن میں روسی فوج کے ماہر دارا میسیکوٹ کا کہنا تھا کہ اس ویڈیو میں کچھ عجیب لگ رہا ہے جس میں سرویکین کی گود میں خودکار ہتھیار ہے۔

بدھ کی شام کو غیر مصدقہ روسی میڈیا اور بلاگر کی رپورٹس تھیں کہ سرویکین کو ماسکو میں حراست میں لے لیا گیا ہے۔ایک معروف صحافی الیکسی ویندیکتوف نے اپنے ذرائع کا حوالہ دیے بغیر کہا کہ سرویکین ہفتے کے روز سے اپنے اہل خانہ سے رابطے میں نہیں تھے اور ان کے باڈی گارڈز بھی خاموش تھے۔

پریگوژن نے یوکرین کی جنگ میں مبیّنہ نااہلی پر شوئیگو اور گیراسیموف کومہینوں تک بدنام کیا تھا لیکن انھوں نے اکثر سرویکین کی تعریف کی تھی اور انھیں چیچنیا اور شام میں اپنے تجربے کی وجہ سے فوج میں بڑے پیمانے پر احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔

گیراسیموف کے عہدہ سنبھالنے سے قبل یوکرین جنگ کے مجموعی کمانڈر کی حیثیت سے خدمات انجام دینے والے سرویکن کو مغربی فوجی تجزیہ کار ایک موثر آپریٹر کے طور پر دیکھتے ہیں اور بعض اوقات روسی جنگی وقائع نگاروں نے انھیں مستقبل کے ممکنہ وزیر دفاع کے طور پر پیش کیا تھا۔

کنگز کالج لندن میں وار اسٹڈیز کے ایمریتس پروفیسر لارنس فریڈمین کا کہنا ہے کہ اگر سرویکین کی برطرفی درست ہے تو یہ ہفتے کی بغاوت کے مقابلے میں روس کی جنگی کوششوں کے لیے زیادہ عدم استحکام کا باعث ہو سکتی ہے۔فریڈمین نے ٹویٹر پرایک بیان میں کہا کہ سرویکین ایک وحشی ہیں لیکن زیادہ قابل روسی کمانڈروں میں سے ایک ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں