پاکستان کے 'بے بنیاد' الزامات مسترد کرتے ہیں: افغان طالبان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

افغانستان میں طالبان حکومت نے پاکستان کی جانب سے سکیورٹی صورتِ حال سے متعلق الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔

افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ٹوئٹر پر ایک بیان میں کہا کہ "پاکستان کے مختلف حکام ملک کی سیکیورٹی صورتِ حال سے متعلق افغانستان کے خلاف بے بنیاد الزامات لگا رہے ہیں۔ جسے ہم مسترد کرتے ہیں۔"

ان کے بہ قول طالبان حکومت کسی کو افغانستان کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیتی۔

ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ اگر اس سلسلے میں کسی کو تحفظات ہیں تو میڈیا میں فضول دعوؤں کے بجائے اسے طالبان حکومت کے ساتھ شیئر کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ اس طرح کے دعوے دونوں ممالک اور اقوام کے مفاد میں نہیں۔

طالبان کی جانب سے یہ ردِعمل پاکستان کے دفتر خارجہ کے گزشتہ روز کے بیان کے بعد سامنے آیا ہے۔

پاکستان کے سرکاری ٹی وی 'پی ٹی وی نیوز' نے گذشتہ روز رپورٹ کیا تھا کہ دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ بلوچستان کے علاقے ژوب میں کینٹ پر حملہ کرنے والے تین دہشت گردوں کا تعلق افغان صوبے قندھار سے تھا۔

دفترِ خارجہ نے افغان حکام سے کہا تھا کہ وہ اس واقعہ میں ہلاک ہونے والے افغان شہریوں کی لاشیں وصول کرلے۔ دفتر خارجہ نے پاکستان میں دہشت ردی کے واقعات میں افغان سرزمین اور افغان شہریوں کے ملوث ہونے پر تشویش کا اظہار بھی کیا تھا۔

خیال رہے کہ گزشتہ ماہ 12 جولائی کو ژوب چھاؤنی پر دہشت گردوں کے حملے میں نو سکیورٹی اہل کار شہید ہو گئے تھے۔ پاکستانی فوج نے اس حملے کے دوران پانچ دہشت گردوں کی شہادت کا دعویٰ کیا تھا۔

دفتر خارجہ کے اس بیان سے ایک روز قبل پاکستان کے وزیرِ خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا تھا کہ 2021 میں افغانستان میں طالبان حکومت آنے کے بعد پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا تھا کہ امریکہ اور نیٹو کا افغانستان میں چھوڑا گیا اسلحہ دہشت گرد گروہوں کی جانب سے استعمال کیا جا رہا ہے۔

پاکستان کے وزیرِ خارجہ نے کہا تھا کہ ہماری ترجیح ہو گی کہ افغانستان میں موجود کالعدم ٹی ٹی پی اور دیگر دہشت گردوں کے خلاف وہاں موجود عبوری حکومت خود کارروائی کرے اور دوحہ معاہدے پر عمل کرے۔

بلاول بھٹو زرداری نے دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے افغانستان کو پاکستان کی مدد کی بھی پیش کش کی تھی۔

خیال رہے کہ اگست 2021 میں طالبان کے افغانستان میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے اسلام آباد اور کابل کے درمیان تعلقات اتار چڑھاؤ کا شکار رہے ہیں۔

پاکستان کی جانب سے با رہا یہ کہا جاتا رہا ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہوتی رہی ہے۔ تاہم طالبان حکومت پاکستان کے ان دعوؤں کی تردید کرتی آئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں