تونسی نوجوان زوہیر جس نے ناخواندگی کے باوجود اسکریپ میٹل کو آرٹ میں بدل دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

تونس کے ایک با ہمت ناخواندہ نوجوان نے اسکریپ کے ٹکڑوں سے فن پارے تیار کر کے اپنی صلاحیت کا لوہا منوا لیا۔

ناخواندگی اور مشکل حالات زندگی تونس کے نوجوان زوہیر البخری کی راہ میں حائل نہیں ہوسکے۔ انہوں نے اسکریپ سے اپنی فنکارانہ دنیا بنائی۔

دارالحکومت تونسیہ کے نواحی علاقے رواد کے رہائشی زہیرکی عمر36 سال ہے اور اس کا شمار ایک نا خواندہ آرٹسٹ کے طور پرہوتا ہے۔

زھیر نے رواد کے علاقے میں اپنی ورکشاپ میں اسکریپ اور لوہے کےٹکڑوں کو باہم جوڑ کرفن پارےبنانے کی ٹھانی۔ اس سے اپنے ذہن سے کھینچی گئی فنکارانہ شکلیں نکالتا ہے جو اس کا اپنا وژن بتاتا ہے۔

اپنی چھوٹی ورکشاپ کے اندر سے اپنے ہتھوڑے اور کام کے باقی سامان کے ساتھ زہیر اپنے دن کا آغاز اور اختتام کرتا ہے۔ اس کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ وہ کسی فن پارے کی تشکیل سے قبل اس کے بارے میں اپنے دماغ میں خاکہ تیار کرتا ہے۔

زہیر نے خبر رساں ادارے ’رائیٹرز‘ کو بتایا کہ وہ حقیقت سے کہانیاں بنانے کے لیے اسکریپ اور لوہے کے ٹکڑوں کو جمع کرتا ہے۔ وہ خوشی، غم، خواہش اور محرومی کو مختلف شکلوں میں نقل کرتا ہے۔

زہیر نے لوہار کے طور پرکام کرنے کے اپنے تجربے کے بارے میں فخر کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ اس نے چھوٹی عمر یعنی آٹھ سال کی عمر میں لوہار کا کام شروع کیا۔ اس نے اس کام میں بہت سی سختیاں اور مشکلات جھیلیں لیکن اس نے اسے اپنے پہلے استاد کے ساتھ ایک اہم تجربہ سمجھا جنہوں نے اسے سکھایا۔ زہیر کے خاندانی معاشی حالات ایسے نہیں تھے کہ اس کی تعلیم جاری رکھی جا سکتی۔

اس نے بتایا کہ اس نے لوہے سے نمٹنے کے طریقے اور تفصیلات سیکھی ہیں، جیسے ویلڈنگ اور کٹنگ کا کام۔ اس کی پہلی اور سب سے بڑی کامیابی اپنے خاندان کے لیے رہنے کا کمرہ بنانا تھا جس کی ضرورت تھی۔

جب وہ 14 سال کا تھا تو اس نے اپنی صلاحیتوں کو اس وقت دریافت کیا جب اسے ایک کیمرہ پسند آیا اور اس کی استطاعت نہیں تھی، اس لیے اس نے اسے سکریپ سے بنایا۔

زوہیر البخری، تیونس کا ایک فنکار جو سکریپ کو ری سائیکل کر کے مجسمے بناتا ہے، تیونس، تیونس میں 3 اگست 2023 کو اپنی ورکشاپ میں کام کر رہا ہے۔

زہیر کہتے ہیں فن پاروں سے اسے محبت ہوگئی تھی مگر اس کے پاس اتنے وسائل نہیں تھے۔ سنہ 2012ء میں وہ لوہار کا کام کرنے کے لیے قطر بھی گیا اور وہاں کچھ عرصہ قیام کے بعد وطن واپس آنے اور اپنی ورکشاپ قائم کرنے کے خواب کو عملی جامہ پہنانا شروع کیا۔

اس نے مزید کہا کہ "میں نے بعد میں اس کام میں مہارت حاصل کی اور اس کے ساتھ مایوسی، اداسی اور ناخواندگی پر قابو پایا۔مجھے اس کام میں کچھ ایسا ملا جو مجھے پسند تھا اور یہ میری روحانی دنیا بن گئی۔میں نے ایک ایسا ہنر دریافت کیا جو میرے اندر بسا ہوا تھا۔

زہیر اپنے آپ کو ایک فنکار سمجھتا ہے نہ کہ سوداگر لیکن حالاتِ زندگی نے اسے اپنے فن پارے بیچنے پر مجبور کر دیا اور یہی پیشہ اس کی روزی کا ذریعہ بن گیا اور اس نے دکھی آواز میں مزید کہا کہ ’’میرے ہر کام کے ساتھ میں روتا ہوں کیونکہ کام میرے وجود اور میری زندگی کا ایک ٹکڑا ہے۔"

نوجوان آرٹسٹ کو امید ہے کہ اس کے فن پارے تونس سے باہر فن کے شائقین تک پہنچیں گے۔ اس لیے اس نے کہا کہ "مجھے اپنے کام اور اپنے فن سے پیار ہے.. میرے دوست نہیں ہیں، میری ورکشاپ میں جو کچھ بھی ہے وہ کہانیاں اور لوگوں کے دکھوں کے واقعات ہیں۔ خوشیوں اور غموں کی داستیں ہیں جو آرٹ کے نمونوں میں دیکھی جا سکتی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں