سوڈان میں پاسپورٹ خواب بن کر رہ گیا، ڈالر میں فیس مقرر، شہریوں میں غم و غصہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سوڈان میں وزارت داخلہ نے پاسپورٹ کے اجرا کے لیے نئی قیمتوں کی فہرست کے اعلان کیا جس پر ملک بھر میں شدید غصے کا اظہار کیا جارہا ہے۔ لوگوں نے سوشل میڈیا پر بھی اس فیصلے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

کہانی اس وقت شروع ہوئی جب سوڈان میں وزارت داخلہ نے نئے پاسپورٹ کے اجراء کے لیے فیس کی ایک متنازع فہرست کا اعلان کیا۔ ملک کے اندر اور باہر پاسپورٹ کے اجرا کی فیس پہلی مرتبہ یکساں کردی گئی۔ وزارت داخلہ نے یہ فیس بڑوں کے لیے 150 ہزار پاؤنڈ مقرر کی جو 250 امریکی ڈالر کے برابر ہے۔ بچوں کے لیے فیس 75 ہزار پاؤنڈ یعنی 125 ڈالر کے برابر رکھی گئی۔

بیرون ملک سوڈانی کے لیے بالغوں کے لیے 250 ڈالر اور بچوں کے لیے 125 ڈالر فیس مقرر کی گئی۔ اس فیصلے نے سوڈانی حلقوں میں بڑے پیمانے پر عدم اطمینان کو پھیلا دیا۔ وڈان میں خود مختاری کونسل کے سربراہ عبدالفتاح البرہان کو بحران کے حوالے سے مداخلت کرنا پڑی۔

مسلح افواج کے کمانڈر نے وزارت خزانہ کو اس فیصلے پر نظرثانی کرنے اور نئے سفری دستاویزات جاری کرنے کی قیمت کو کم کرنے کی ہدایت کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ وزارت داخلہ نے پاسپورٹ کے اجرا کی فیس میں اضافے کے الزام کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ان وفاقی فیسوں کا فیصلہ وزارت نہیں کرتی بلکہ وزارت خزانہ کرتی ہے۔

دوسری جانب غیر مطمئن افراد نے پاسپورٹ کے اجراء کے لیے نئے وزارتی ضوابط پر اپنا غصہ نکالا اور کہا کہ سرکاری حکام یہ بات بھی خاطر میں نہیں لائے کہ شہری انتہائی پیچیدہ حالات میں زندگی گزار رہے ہیں اور اکثریت اپنے ذرائع آمدن سے محروم ہے۔

ایک شہری ولید محمد المبارک نے کہا کہ نئی قیمتوں کی فہرست نے سوڈان کو دنیا کے مہنگے ترین ممالک میں سے ایک بننے کی طرف دھکیل دیا ۔ اگرچہ پاسپورٹ کے اجرا کی فیس کے معاملے میں اب تک کا سب سے مہنگا ملک نہ بھی بنا ہو لیکن سوڈان نے بڑے بڑے ممالک کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

ایک دوسرے صارف نے کہا پاسپورٹ کے اجرا کی فیس ڈیڑھ لاکھ پاؤنڈ ہے۔ اور شہری تقریباً نصف سال سے بغیر تنخواہ اور آمدنی کے زندگی بسر کر رہے ہیں۔ اس نے طنزیہ انداز میں پوچھا کون ایسا ذہین افسر ہے جس نے اپنے آرام دہ دفتر سے ایسا فیصلہ کیا ہے؟

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں