فلسطین اسرائیل تنازع

ملائیشیا حماس اور اس کے حامیوں کے خلاف یکطرفہ پابندیوں کو نہیں مانے گا: انور ابراہیم

امریکی پابندیوں سے ملائیشین کمپنیاں متاثر ہوئیں تو امریکی کمپنیاں بھی متاثر ہوں گی۔ پارلیمنٹ میں جواب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ملائیشیا نے امریکی یا کسی اور ملک کی طرف سے حماس اور اس کے حامی دیگر فلسطینی جماعتوں کیخلاف یکطرفہ پابندیوں کو قبول نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ پابندیاں امریکہ ' انٹرنیشنل فنانسنگ پریوینشن ایکٹ' کے تحت لگاتا ہے۔ تاکہ اس کی ناپسندیدہ جماعتوں کو کسی طرف سے بھی مالی امداد نہ مل سکے۔

حماس کے حوالے سے امریکی ایوان نمائندگان نے پچلے ہفتے ان پابندیوں کا بل منظور کیا گیا تھا۔ تاہم سینیٹ میں ابھی اس بارے میں ووٹنگ ہونا باقی ہے۔ ملائیشیا کی طرف سے ان ممکنہ پابندیوں کو تسلیم نہ کرنے کا اعلان وزیر اعظم انور ابراہیم نے اپنے ایک تحریری جواب میں کیا ہے۔

انور ابراہیم نے منگل کے روز اپنے تحریری بیان میں کہا ہے کہ ان کی حکومت سارے معاملے کو قریب سے مانیٹر کر رہی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ یہ اکیلا ملائیشیا ہی جس پر حماس کو مادی مدد دینے کا کہہ کر پابندیاں لگائی جائیں۔

انہوں نے مزید کہا اگر ملائیشیا پر پابندیاں لگائی گئیں تو اس سے امریکی کمپنیاں بھی اس طرح متاثر ہوں گی جس طرح کہ ملائیشن کمپنیاں ان پابندیوں سے متاثر ہوں گی۔

مسلم اکثریتی ملک ملائشیا ایک طویل عرصے سے فلسطین کاز اور مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل کا کا کھلا حامی ہے۔ حماس کے کئی رہنما گاہے گاہے ملائشیا کا ماضی میں دورہ بھی کر چکے ہیں۔

وزیر اعظم انور ابراہیم نے پچھلے دنوں حماس کی مذمت کے لیے امریکی دباؤ کی پروا نہ کی تھی۔ جس پر امریکہ نے تشویش ظاہر کی ۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں