اسرائیل کو جنگ لبنان تک پھیلانے سے روکنے کی نئی امریکی حکمت عملی تیار

امریکی وزیر دفاع کا اسرائیلی ہم منصب کوفون، جنگ پھیلی تو امریکہ اور دوسرے ملکوں کو ملوث ہونا پڑے گا۔

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیل حماس جنگ کو مشرق وسطیٰ میں لبنان تک پھیلنے سے روکنے کے لیے امریکی پالیسی میں ایک نیا رخ سامنے آرہا ہے۔ امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے اسرائیلی ہم منصب سے اس سلسلے میں رابطہ کر کے انہیں جنگ کو پھیلے والے اقدامات سے گریز کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

امریکی وزیر دفاع نے اس بارے میں وائٹ ہاوس کی ٹیم میں پائے جانے والے تحفظات سے بھی آگاہ کیا اوران کارروائیوں کی طرف بھی متوجہ کیا جو لبنان میں حزب اللہ کو اشتعاال دلا کر جنگ کے پھیلنے کا باعث بن سکتی ہیں۔

لائیڈ آسٹن نے اسرائیلی وزیر دفاع گیلانٹ کو آگاہ کیا ہے کہ وائٹ ہاؤس میں پائی جانے والی بے چینی سے بھی باخبر کیا کہ اسرائیلی فوجی اقدامات سے لبنان کے ساتھ سرحد پر کشیدگی بڑھ سکتی ہے۔

اس بارے میں ذرائع نے بتایا ہے کہ ' بائیڈن انتظامیہ میں کچھ لوگ اس امر پر تشویش پائی جاتی ہے کہ اسرائیل حزب اللہ کو مشتعل کر رہا ہے۔ جس کے نتیجے میں امریکہ اوربعض دوسرے ملکوں کو مزید تصادم کی طرف جانا پڑ سکتا ہے۔ تاہم اسرائیلی حکام نے دوٹوک انداز میں اس رپورٹ کے مندرجات کی تردید کی ہے۔

خیال رہے گذشتہ روز بحیرہ روم میں ایک امریکی طیارے کا اچانک حادثے کا شکار ہونا اور بعد ازاں شام میں حزب اللہ کے حامی گروپوں کا یہ دعویٰ سامنے شام میں کونوکو میں امریکی فوجی اڈے کو راکٹ حملوں سے نشانہ بنایا گیا ہے' اگرچہ اس معاملے سے جڑا ہوا نہیں بتایا گیا ہے لیکن اسے مکمل نظر انداز بھی نہیں کیا جاسکتا ہے۔

ایرانی پاسداران انقلاب کے سربراہ نے بھی حال ہی میں کہا ہے کہ ' غزہ کی جنگ لبنان کی طرف پھیلی تو ایران بھی تیاری کیے ہوئے ہے۔'
ہفتے کے روز اسرائیلی وزیر دفاع نے حزب اللہ کا انتباہ کیا تھا ' حزب اللہ کے شمالی اسرائیل پر حملے ایک بڑی غلطی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ اس غلطی کا انجام بیروت کے لوگوں کے لیے اچھا نہیں ہو گا۔'

وزیر دفاع اسرائیل نے اسی موقع پر کہا تھا ۔ 'حزب اللہ لبنان کو جنگ کی طرف کھینچ رہی ہے۔ اس کی غلطیوں کی قیمت پورے لبنان کے لوگوں کو ادا کرنا پڑے گی ، کیونکہ ہم جو کچھ غزہ میں کر رہے ہیں ہمیں معلوم ہے کہ یہی کچھ بیروت میں کس طرح کیا جا سکتا ہے۔'

رپورٹ کے مطابق آسٹن کو وائٹ ہاؤس کی طرف سے کہا گیا کہ وہ گیلانٹ سے لبنان میں فوجی کارروائیوں کو پھیلانے کے بارے میں تشویش سے آگاہ کریں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے ' دونوں وزرائے دفاع کے درمیان یہ ایک کھلی بات والی بے تکلفانہ فون کال تھی۔ جس میں اسرائیل کے لبنان میں ہوائی حملے کے بارے میں پوچھا گیا اور کہا گیا کہ جنگ کی طرف بڑھنے والے قدموں کو روکیں.

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں