فلسطین اسرائیل تنازع

غزہ جنگ:فرانسیسی نوبل انعام یافتہ مصنفہ کا جرمنی کے ثقافتی بائیکاٹ کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

فرانس کی نوبل انعام یافتہ مصنفہ 'اینی ایرناکس' بھی اسرائیل کی خلاف حماس کی جنگ کے حوالے سے جرمنی کے ثقافتی بائیکاٹ میں شامل ہو گئی ہیں، یہ مہم جرمنی کے بائیکاٹ کے لیے ایک دستخطی مہم کی صورت فرانس میں' سترائیک جرمنی" کے نام سے جاری ہے۔

'اینی ایر ناکس ' پبلشر نے منگل کو کہا کہ غزہ کا تنازعہ ہمارے ملک کے ثقافتی منظر کو تقسیم کر رہا ہے۔

"سٹرائیک جرمنی" کے نام سے جرمنی کے ثقافتی بائیکاٹ مہم کے منتظمین کے مطابق، پٹیشن پرایک ہزار سے زیادہ شخصیات دستخط کر چکی ہیں۔ دستخط کرنے والے جرمنی میں "تہواروں اور نمائشوں" میں عدم شرکت سے اتفاق کر رہے ہیں اور اس کا دوسروں سے مطالبہ بھی کر رہے ہیں اور مطالبہ کر رہے ہیں ۔ تاہم مغربی خبر رساں اداروں اور میڈیا کو ان حقائق کی تصدیق میں دقت محسوس کررہے ہیں۔

تاہم جرمنی کو اس مہم کے اثرات محسوس ہو رہے ہیں۔ اسی وجہ سے جرمنی میں ثقافتی تقریبات اور انعامی تقریبات کے سلسلے میں کئی تقریبات منسوخ کر دی گئی ہیں۔ کیونکہ کئی جگہوں پرجب شرکاء کی جانب سے اسرائیل مخالف تصور کیے جانے والے خیالات کا اظہار کیا گیا تھا۔

بائیکاٹ کی اس مہم کے مخالفین اسے فنکارانہ آزادیوں کو محدود کرنے اور یہود دشمنی کا نام دے رہے ہیں۔ تاہم بائیکاٹ کے حامی اسے انسانی حقوق اور انسانوں کے تحفظ اور توقیر کے لیے لازمی سمجھتے ہیں کہ بولا جائے اورغلط پالیسیوں کی نشاندہی کی جائے۔

مصنفہ کے جرمن پبلشر سہرکمپ کے ترجمان نے 'اے ایف پی' کو بتایا ہے 'جرمن کے روزنامے ' رائنشے پوسٹ ' کی طرف سے پہلی بار اس خبر کی اطلاع دینے کے بعد ایرناکس نے "سٹرائیک جرمنی" کی پٹیشن پر دستخط کر دیے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں