طلباء کو نماز سے روکنے پراسکول کی پرنسپل کی سپریم کورٹ میں پیشی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

برطانیہ میں ایک اسکول کی پرنسپل کو مسلمان طلبا کو نماز سے روکنے کی وجہ سے قانونی چارہ جوئی کا سامنا ہے۔ اس کیس میں وہ جیل بھی جا سکتی ہیں۔

برطانوی اخبار ڈیلی ٹیلی گراف کی طرف سے شائع کردہ رپورٹ العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطالعے سے گذری ہے۔ رپورٹ کے مطابق اسکول کے ایک مسلمان طالب علم نے پرنسپل کے خلاف مقدمہ چلانے اور نماز پر پابندی عائد کرنے کے ان کے فیصلے کو کالعدم قرار دینے کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دی تھی۔

’’میکایلا ‘‘سکول لندن کے شمال مغرب میں برینٹ کے علاقے میں واقع ہے اور اسے ٹیچر کیتھرین بیربل سنگھ چلاتی ہیں۔ انہیں اب مسلم طلباء کو نماز پڑھنے سے روکنے کے فیصلے کی وجہ سے مقدمہ کا سامنا ہے۔

عدالت میں اپنا موقف بیان کرتے ہوئے کیتھرین بیربل سنگھ نے کہا کہ اسے انٹرنیٹ پرمذہب کے بارے میں نقطہ نظر سےاختلافات کے ساتھ ساتھ تشدد اور بدسلوکی کی دھمکیوں اور "اسلامو فوبیا کے الزامات" کا سامنا کرنا پڑا۔

مائیکلا سکول
مائیکلا سکول

اخبار نے نشاندہی کی کہ یہ اسکول وسیع پیمانے پر ہونے والی تنقید کے باوجود پرنسپل بیربل سنگھ کی سخت پالیسی کی بہ دولت پورے ملک میں بہترین تعلیمی نتائج حاصل کرتا ہے۔

منگل کو لندن میں سپریم کورٹ کی سماعت میں کہا گیا کہ نماز کے بارے میں اسکول کا موقف سب سے پہلے گذشتہ سال مارچ میں ہیڈ مسٹریس نے پیش کیا تھا۔ بعد میں مئی میں انتظامی ادارے کی طرف سے اس کی اصلاح کی گئی۔

سپریم کورٹ کو بھیجی گئی تفصیلات کے مطابق تقریباً 30 طالب علموں نے گذشتہ سال مارچ میں اسکول کے "نمی والے" اور "گندے" صحن میں نماز پڑھنا شروع کی۔ گھٹنے ٹیکنے اور سجدہ کرنے کے لیے جیکٹس کا استعمال کیا کیونکہ انہیں نماز کے لیے جائے نماز یا قالین لانے کی اجازت نہیں تھی۔

مسلمان طالب علم کی وکیل سارہ ہینیٹ کے سی نے کہا کہ نماز کی پالیسی کا صرف مسلمانوں کو نماز پڑھنے سے روکنے کے عملی اثرات ہوسکتے ہیں کیونکہ ان کی نمازیں ان کی عادت نہیں بلکہ شعائر کا درجہ رکھتی ہیں"۔

طالب علم جس کا نام ظاہر نہیں کیا گیا کہ نے کہا کہ "نماز کی ادائی کو روکنے" کا فیصلہ مذہبی آزادی کے اس کے حق کی خلاف ورزی ہے۔

ڈیلی ٹیلی گراف کے مطابق میکایلا کا اسکول جو 2014 میں کھولا گیا تھا برے رویے اور سخت قوانین کے خلاف اپنی "زیرو ٹالرینس" کی پالیسی کے لیے جانا جاتا ہے۔ اس میں اسمارٹ فون لانے کی اجازت نہیں۔

اسکول کو 'پروگریس 8' کے لیے اس سال ملک میں پہلے نمبر پر رکھا گیا تھا، جس سے اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ پرائمری اسکول سے لے کر سیکنڈری کلاسزتک طلباء کی بہتری میں کتنی مدد کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں