ترکیہ: اسرائیل کو برآمدات پر پابندی لگا دی، جنگی بندی تک فیصلہ برقرار رہے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ترکیہ نے اسرائیل کے لیے 54 مختلف اشیاء کے برآمد کیے جانے پر پابندیاں لگا دی ہیں۔ اس امر کا اعلان منگل کے روز ترکیہ کی وزارت تجارت نے کیا ہے۔ یہ پابندیاں فوری طور پر نافذ العمل ہوں گی اور غزہ میں جنگ بندی تک جاری رہیں گی۔

واضح رہے اسرائیل کی غزہ میں جاری جنگ کا ساتواں ماہ شروع ہو چکا ہے۔ جبکہ اس دوران 33207 سے زائد فلسطینیوں کی ہلاکت ہو چکی ہے۔ ان ہلاکتوں میں بڑی تعداد فلسطینی عورتوں اور بچوں کی ہے۔ اسرائیلی محاصرے اور ناکہ بندیوں کی وجہ سے غزہ میں بھوک اور قحط کا سماں ہے۔

ترکیہ کا پرچم بردار کنٹینر بردار جہاز [ترک برآمدات کا تعبیری اظہار بذریعہ آئی سٹاک]
ترکیہ کا پرچم بردار کنٹینر بردار جہاز [ترک برآمدات کا تعبیری اظہار بذریعہ آئی سٹاک]

غزہ میں جنگ اسرائیلی جنگ کے چھ ماہ مکمل ہونے کے بعد ترکیہ کی وزارت تجارت کی طرف سے کیے گئے اعلان میں پابندیوں کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ اسرائیل نے غزہ میں مسلسل جنگ جاری رکھی ہوئی ہے۔ حتیٰ کہ ترکیہ کی طرف سے زیر محاصرہ غزہ میں 'ائیر ڈراپس' کی صورت میں خوارک کی ترسیل کے لیے درخواست بھی رد کر دی ہے۔

وزارت نے اپنی برآمدی قدغنوں کی زد میں آنے والی اشیاء میں، لوہے اور سٹیل سمیت سٹیل کی بنی ہوئی اشیاءٰ بھی شامل کی ہیں۔ نیز تعمیراتی آلات اور مشینری کی برآمد پر بھی پابندی ہو گی۔

تاہم ایسا کچھ نہیں بتایا گیا ہے کہ ترکیہ میں حالیہ دنوں بلدیاتی انتخابات میں صدر ایردوآن کی جماعت کو ہونے والی بد ترین شکست بھی اس اہم فیصلے کی ایک وجہ بنی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں