اسرائیلی جنگ کے مخالف امریکی پروفیسر کو قتل کے مقدمے کا سامنا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکی عدالت نے اسرائیل کی غزہ جنگ کی مخالفت کرنے والے کالج کے پروفیسر کے خلاف ایک یہودی کی ہلاکت کا مقدمہ چلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ عدالت کی ابتدائی کارروائی کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔ تاہم قتل کے الزام میں ٹرائل آنے والے دنوں میں ہو گا۔

بتایا گیا ہے کہ یہ ابتدائی حکم جنوبی کیلیفورنیا کی ایک عدالت کے جج نے سنایا ہے۔ کالج میں کمپیوٹر سائسز کے استاد نے ماہ نومبر میں اسرائیلی جنگ کے خلاف ہونے والے اساتذہ اور طلبہ وغیرہ کے احتجاج میں حصہ لیا تھا ۔

اس جنگ بندی کے حق میں ان کے مظاہرے کے رد عمل میں اسرائیلی جنگ کے حامی بھی احتجاج کرنے لگے ، ان کا مطالبہ جنگ کو غزہ میں جاری رکھنے کا تھا۔ مظاہرین کا باہم آمنا سامنا ہوگیا۔ اس دوران 51 سلہ پروفیسر جنہیں اب قتل کے مقدمے میں ٹرائل کا سامنا کرنا ہو گا ہاتھ میں مبینہ طور پر میگا فون اٹھائے ہوئے تھے۔

خیال رہے سنہ 2022 میں ماہ ستمبر میں ایران میں بھی ایسے ہی مظاہرے مہسا امینی کی پولیس حراست میں ہلاکت کے خلاف شروع ہوئے تھے۔ جنہیں روکنے کے لیےایرانی سیکیورٹی فورسز متحرک ہو گئی تھیں۔ اس دوران احتجاج میں حصہ لینے والوں کو اس سال بھی ایرانی عدالتوں نے قتل اور ملک دشمنی کی بنیاد پر سزائے موت سنائی ہے جبکہ کئی افراد کو پھانسی بھی دی جا چکی ہے۔

تاہم یہ امریکہ میں پہلا موقع ہے کہ جنگ مخالف اور امن کے حامی مظاہرین میں شامل پروفیسر کو ایک جنگ کے حامی کی موت کی وجہ سے مقدمہ کا سامانا کرنا پڑے گا۔ امریکہ کے جنوبی کیلیفورنیا کے علاقے وینٹوراکاؤنٹی کے ڈسٹرکٹ اٹارنی کے دفتر کے مطابق سپیریئر کورٹ کے جج ریان رائٹ نے دو دن تک ابتدائی سماعت کرنے کے بعد پروفیسر کے خلاف فیصلہ دیا ہے کہ عبدالفتاح الناجی کے خلاف مقدمہ چلانے کے کافی ثبوت موجود ہیں۔

پروفیسر کے خلاف الزام میں کہا گیا ہے 'لاس اینجلس کے شمال مغرب میں واقع علاقے میں اسرائیلی جنگ کے مخالفین کے مظاہرے کے دوران ایک تصادم ہونے پر پال کاسلر نامی یہودی کو مبینہ طور پر میگا فون سے مارا گیا تھا۔ جس سے 69 سالہ کیسلر پیچھے کو زمین پر گر پڑا اور ہسپتال میں اس کی موت واقع ہوگئی۔

پروفیسر پر ڈسٹرکٹ اٹارنی کے دفتر نے دو الزام لگائے ہیں۔ ایک یہ کہ اس نے غیر ارادی طور پر ایک شخص کو قتل کیا اور دوسرا بیٹری والی چیز سے اس کے جسم پر چوٹ لگائی۔

بتیا گیا ہے کہ اسرائیلی جنگ کے خلاف مظاہرے میں حصہ لینے والے اس پروفیسر پر اگر الزام ثابت ہو جاتا ہے تو اسے کم از کم چار سال یا اس سے زیادہ قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

پروفیسر عبدالفتاح الناجی کمپیوٹر سائنسز سے متعلق ایک کالج 'مور پارک' میں پڑھاتے ہیں۔ ان کے بارے میں تحقیقات سے پتا چلا ہے کہ وہ اپنے فیس بک پیج پر بھی فلسطین کی حمایت کرتے رہتے تھے۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ اسرائیل مخالف ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں