سعودی عرب میں نصف خواتین کینسر کی علامات کے لیے چھاتی کی جانچ کرنے میں ناکام: تحقیق

اگرچہ حالیہ عشروں میں بقا کی شرح میں بہتری آئی ہے لیکن تاخیر سے تشخیص نتائج پر اثرانداز ہوتی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

سعودی عرب کے جدہ میں چھاتی کے کینسر کے حوالے سے ایک سروے کیا گیا جس میں شریک نصف خواتین نے جواب دیا کہ انہوں نے چھاتی کی بے قاعدگیوں کی علامات کے لیے کبھی ازخود معائنہ نہیں کیا یا شاذ و نادر ہی کیا ہے – اور یہ بات ممکنہ طور پر ان میں کینسر کی آخری مرحلے میں تشخیص کا خطرہ بڑھا دیتی ہے۔

طبی تحقیقاتی جرنل کیوریس میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں جدہ میں 18 سال یا اس سے زیادہ عمر کی 454 سعودی خواتین میں چھاتی کے کینسر سے متعلق آگاہی اور سکریننگ کے طریقوں کا جائزہ لیا گیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ صرف 4.4 فیصد خواتین نے ہفتے میں کم از کم ایک بار اپنی چھاتی کا معائنہ کیا جبکہ 50.2 فیصد نے شاذ و نادر ہی یا کبھی نہیں کیا۔اس لحاظ سے 42.8 فیصد سعودی خواتین نے کبھی ازخود اپنی چھاتی کا معائنہ نہیں کیا۔

چھاتی کا کینسر دنیا بھر میں خواتین کی صحت کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔

حالانکہ حالیہ عشروں میں سکریننگ اور علاج میں پیشرفت کی بدولت بقا کی شرح میں بہتری آئی ہے لیکن دیر سے تشخیص کے نتائج پر اثرانداز ہونے کا سلسلہ جاری ہے۔ چھاتی کے کینسر سے متعلقہ ایک مطالعے کی مصنفہ غالہ یٰسین نوٹ کرتی ہے کہ سعودی مملکت میں چھاتی کے کینسر کے بوجھ کو کم کرنے کے لیے سکریننگ کے ذریعے آگاہی اور جلد تشخیص کو فروغ دینا بہت ضروری ہے۔

رسولی کا مہلک پھیلاؤ

چھاتی کا کینسر ایک بیماری ہے جس میں چھاتی کے غیر معمولی خلیے قابو سے باہر ہو کر رسولی کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ اگر ان کی جانچ نہ کی جائے تو رسولی پورے جسم میں پھیل کر مہلک بن سکتی ہیں۔

زیادہ تر لوگوں کو کسی بھی علامات کا تجربہ نہیں ہوگا جبکہ کینسر ابتدائی مرحلے میں ہو۔ عالمی ادارۂ صحت کہتا ہے کہ اسی لیے جلد تشخیص کی اہمیت ہے۔ چھاتی کے کینسر میں علامات کے مجموعے ہوسکتے ہیں، خاص طور پر جب یہ زیادہ بڑھ چکا ہو۔ چھاتی کے کینسر کی علامات میں اکثر درد کے بغیر چھاتی میں گلٹی یا ابھار، چھاتی کے سائز، شکل یا ظاہری شکل میں تبدیلی، گڑھا پڑ جانا، سرخی، داغ یا جلد میں دیگر تبدیلیاں، نپل کی ظاہری شکل یا اس کے آس پاس کی جلد میں تبدیلی اور نپل سے غیر معمولی یا خونی سیال کا آنا شامل ہو سکتی ہیں۔

علاج متعلقہ شخص، کینسر کی قسم اور اس کے پھیلاؤ پر مبنی ہوتا ہے۔ علاج میں جراحت، تابکاری تھراپی اور ادویات شامل ہوتی ہیں۔

میموگرام سکریننگ کی اہمیت

سعودی عرب میں مملکت کے تمام شہریوں کو میموگرام سکریننگ مفت فراہم کی جاتی ہے۔ وزارتِ صحت مشورہ دیتی ہے کہ 40 سال اور اس سے زیادہ عمر کی خواتین حتیٰ کہ چھاتی کے کینسر کی خاندانی تاریخ کے بغیر بھی میموگرام سکریننگ کروائیں۔

مرض کی خاندانی تاریخ رکھنے والی خواتین کو چاہیے کہ اپنے خاندان کی متأثرہ رکن میں چھاتی کا کینسر شروع ہونے کی عمر سے 10 سال پہلے سکریننگ شروع کر دیں۔

وزارتِ صحت کی پالیسی کے مطابق 40 سے 50 سال کی خواتین کو ہر دو سال بعد میموگرام سکریننگ کرانے کی سفارش کی جاتی ہے جبکہ 51 سے 69 سال کی عمر کی خواتین کو ہر ایک سے دو سال بعد سکریننگ کرانی چاہیے۔

جبکہ سروے میں 65.9 فیصد شرکاء وزارتِ صحت کے بریسٹ کینسر سکریننگ پروگرام سے واقف تھیں لیکن صرف 29.1 فیصد نے سکریننگ کے دعوت نامے موصول ہونے کی اطلاع دی۔ اس سے بھی کم (25.3 فیصد) اصل میں سکریننگ سے گذریں۔

محققین نے آمدنی کی سطح کو چھاتی کے کینسر سے متعلق آگاہی کے پیش گو عنصر کے طور پر شناخت کیا جس میں زیادہ آمدنی والے شرکاء زیادہ علم کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ بنیادی طبی حالت کے بغیر افراد میں بھی بیداری کی سطح زیادہ تھی۔

ثقافتی رکاوٹوں کو دور کرنے کی ضرورت

یٰسین نے مخصوص آبادیوں کے درمیان علم کے فرق کو دور کرنے کے لیے آگاہی مہمات اور تعلیمی پروگراموں پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ آگاہی کے ساتھ ساتھ سکریننگ کی شرح کو بہتر بنانا بھی ضروری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صحت کی نگہداشت کے مراکز کو ثقافتی رکاوٹوں کی وجہ سے فعال طور پر خواتین تک پہنچنا چاہیے۔

انہوں نے مطالعہ کے نتائج میں کہا، "نتائج ان ہدفی مداخلتوں کی فوری ضرورت پر زور دیتے ہیں کہ چھاتی کی باقاعدگی سے سکریننگ کو فروغ دیا جائے، چھاتی میں تبدیلیوں کو دیکھنے پر اعتماد بڑھایا جائے اور تبدیلیاں دیکھنے پر ڈاکٹر سے مشورے کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ حالانکہ سکریننگ پروگرام کے بارے میں آگاہی نمایاں طور پر زیادہ تھی لیکن سکریننگ میں اصل شرکت اتنی مضبوط نہیں تھی۔"

یٰسین نے کہا، "اس کی وجہ خوف، غیر آرام دہ احساس، سماجی اصول یا وقت کی پابندی اور رسائی جیسے عملی مسائل ہو سکتے ہیں۔ ان رکاوٹوں کو بہتر طور پر سمجھنے اور ان سے نمٹنے کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔ اس سے فرق کو سمجھنے اور خواتین کی شرکت بڑھانے کے لیے حکمت عملی وضع کرنے کی غرض سے مزید تحقیق کی طرف اشارہ ملتا ہے۔ چھاتی کے کینسر کی علامات کے بارے میں آگاہی کے ساتھ آمدنی اور خون میں چربی کی غیر معمولی مقدار اہم وابستہ عناصر کے طور پر سامنے آئیں۔ اس لیے مؤثر آگاہی مہمات ڈیزائن کرنے کے لیے ان عوامل پر غور کرنا چاہیے۔"

خواتین کی صنف زیادہ خطرے میں

"چھاتی کے کینسر کی سکریننگ سے متعلق آگاہی اور طریقے بڑھانا بالآخر جلد تشخیص میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے اور یوں سعودی خواتین میں تشخیص اور بقا کی شرح کو بہتر کیا جا سکتا ہے۔"

عالمی ادارۂ صحت کے مطابق 2022 میں 2.3 ملین خواتین میں چھاتی کے کینسر کی تشخیص ہوئی اور اس بیماری سے عالمی سطح پر 670,000 اموات ہوئیں۔

چھاتی کا کینسر ہر ملک میں خواتین میں بلوغت کے بعد کسی بھی عمر میں ہو جاتا ہے لیکن بڑی عمر میں اس کے زیادہ خطرات ہوتے ہیں۔ خواتین کی صنف اس بیماری سے سب سے زیادہ خطرے میں ہے۔ تقریباً 99 فیصد چھاتی کے کینسر خواتین میں اور 0.5-1 فیصد کیسز مردوں میں ہوتے ہیں۔ مردوں میں چھاتی کے کینسر کے علاج کا طریقۂ کار انہی اصولوں پر عمل کرتا ہے جو خواتین کے لیے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں