اسرائیلی کی غزہ جنگ، اسرائیلیوں کو عالمی سطح پر نفرت اور تنہائی کا نشانہ بنا رہی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

غزہ کی طویل جنگ میں 36284 سے زائد فلسطینیوں کو ہلاک اور لاکھوں کو بے گھر کرنے والے اسرائیل نے اس آٹھ ماہ پر اب تک پھیلی جنگ میں جو چیز بالاتفاق پائی ہے وہ سفارتی ناکامی اور عالمی برادری کی غالب اکٹریت میں تنہائی ہے۔ ہر ملک سے، ہر خطے سے اور ہر بر اعظم میں اسرائیلی مذمت ایک عمومی سرگرمی ہے۔ حتی کہ جو ملک مکمل طور پر اسرائیل کے ساتھ کھڑے ہیں ان کے ہاں بھی اسرائیلی مذمت کے واقعات کم نہیں ہیں۔

امریکہ اور مغربی دنیا کے یونیورسٹیز کیمپسز اور نوجوانوں خصوصا طلبہ و طالبات میں غم و غصے نے اسرائیلیوں کو یہ اچھی طرح سمجھا دیا ہے کہ ان کا ملک اپنے غیر منصفانہ انداز کی وجہ سے پہلے سے زیادہ الگ تھلگ ہو گیا ہے۔

حماس کے 7 اکتوبر کے حملے کے بعد اسرائیلیوں کو اپنے اتحادیوں اور عالمی برادری سے غیر متزلزل حمایت کی توقع رہی ، ایسا ہوا بھی۔ لیکن جیسے جیسے غزہ میں اسرائیل کی انتقامی کارروائیاں سنگین ہوتی گئیں، اسرائیل عالمی برادری کے ساتھ ساتھ یورپ میں بھی عوامی سطح پر حمایت کھوتا چلا گیا۔

یہاں تک کہ گذشتہ ہفتے رفح میں بے گھر فلسطینیوں کے کیمپ پر اسرائیلی حملے کے بعد اسرائیل کے خلاف عالمی رائے عامہ میں شدت کا جواز بڑھ گیا۔

غزہ کے فلسطینی حکام کے مطابق اس اسرائیلی حملے میں کم از کم 45 بے گھر فلسطینیوں کو ان کے خیموں میں بھسم کر دیا گیا اور اڑھائی سو زخمی ہو گئے۔ اگرچہ اسرائیلی فوج نے کیمپ کو نشانہ بنانے کی تردید کی ہے۔ مگر اسرائیلی حملے سے استنبول سے بیجنگ اور واشنگٹن سے پیرس تک ہر جگہ اسرائیل کو مذمت ملی۔

سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم انسٹاگرام پر، 'ہر آنکھ رفح پر' کے 'ہیش ٹیگ' والی 47 ملین سے زیادہ پوسٹس ریکارڈ کی گئی ہیں۔ مگر اسرائیلی بڑھتی ہوئی تنہائی کے باوجود منحرف ہیں۔

ایک 24 سالہ اسرائیلی نژاد امریکی نیتنیل آرونسن نے 'اے ایف پی' سے بات کرتے ہوئے کہا 'مجھے نہیں لگتا کہ اسرائیل کو اس کی پرواہ کرنی چاہیے کہ دنیا کیا کہتی ہے۔ میں اپنی فوج کی سو فیصد حمایت کرتا ہوں۔ میں ہر روز ان کے لیے دعا کرتا ہوں کہ وہ کریں۔'

سب کے لیے المیہ

وزارت صحت کے مطابق 7 اکتوبر سے غزہ میں جاری اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں اب تک 36379 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔

50 سالہ اسرائیلی نتالی نے کہا 'ہم دیکھ رہے ہیں کہ کیا ہو رہا ہے۔'

سیاسی تجزیہ کار ڈاہلیا شائنڈلن نے کہا 'اسرائیل اس بات سے آگاہ تھا کہ جنگ اسرائیل کی عالمی حیثیت کو نقصان پہنچا رہی ہے۔' شائنڈلن نے غزہ میں جاری اسرائیلی جنگ کے تباہ کن اثرات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا 'اسرائیلی فوج اسرائیلیوں کے لیے جدو جہد کے طور پر اس جنگ کو دیکھتی ہے۔'

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں