شرق اوسط

امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن مشرق وسطیٰ کے دورے پر مصر پہنچ گئے

غزہ میں جنگ بندی کی امریکی تجویز میں پیش رفت بلنکن کے دورے کا اہم موضوع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے سوموار کے روز سے غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کی تجویز کو آگے بڑھانے کے لیے مشرق وسطیٰ کے نئے دورے کا آغاز کیا ہے۔ اسرائیل میں جاری سیاسی بحران میں وہ مصر سے اپنے دورے کا آغاز کر رہے ہیں۔

دوسری طرف اسرائیل میں جنگی کونسل کے اہم رکن بینی گانٹز سمیت متعدد اہم عہدیداروں کے استعفے کے بعد سیاسی بحران پیدا ہوگیا جب کہ حماس بھی جنگ بندی کی امریکی تجاویز پر کوئی تفصیلی فیصلہ یا موقف جاری کرنے سے کترا رہی ہے۔

ایسی غیر یقینی کی صورت حال ہی میں امریکی وزیر خارجہ نے اس دورے کا آغاز کیا ہے۔ مصر کے بعد وہ اسرائیل کا بھی دورہ کریں گے جو ان کا تل ابیب کے لیے گذشتہ سال سات اکتوبر کے بعد آٹھواں دورہ ہو گا۔

اس دورے کا مقصد اسرائیل اور حماس کے درمیان مجوزہ جنگ بندی کی تجاویز کو اپنانے پر زور دینا ہے، جس کا انکشاف امریکی صدر جو بائیڈن نے 31 مئی کو کیا تھا۔ بائیڈن اس جنگ کو روکنے کے لیے کوششیں تیز کر رہے ہیں۔

حماس جس نے سات اکتوبر کو اسرائیل کے اندر ایک طوفانی حملہ کیا تھا، جس نے ایک نئی بحث چھڑنے کی راہ ہموار کی اور اس کے بعد اسرائیل نے غزہ میں وسیع پیمانے پر جنگ مسلط کر رکھی ہے۔

رفح کراسنگ کو دوبارہ کھولنا

قاہرہ میں بلنکن صدر عبدالفتاح السیسی کے ساتھ تنازعہ فلسطین کے حوالے سے بات چیت کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ مصری قیادت اور امریکی وزیر خارجہ کے درمیان ہونے والی بات چیت میں غزہ کی واحد بین الاقوامی گذرگاہ رفح کو دوبارہ کھولنےپر غور بھی شامل ہے۔ رفح کرسنگ پر اسرائیل نے ایک ماہ قبل حملہ کرکے اس پر قبضہ کرلیا تھا اور یہ کراسنگ اس وقت سے بند ہے۔

اسرائیلی فوج نے کراسنگ کے فلسطینی اطراف کا کنٹرول سنبھال لیا اور مصر پر الزام عائد کیا کہ وہ اسے بند کرنے کا ذمہ دار ہے۔ مصر نے جواب دیا کہ غزہ کی پٹی میں انسانی امداد لے جانے والے ٹرک ڈرائیور اسرائیلی چوکیوں کو عبور کرتے وقت خود کو محفوظ محسوس نہیں کرتے۔

بندش نے غزہ میں انسانی بحران کو مزید بڑھا دیا اور محصور پٹی میں قحط کے خدشات میں اضافہ کیا ہے۔

اپنے مشرق وسطیٰ کے دورے کے دوران بلنکن بدھ کو G7 سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے اٹلی جانے سے پہلے اردن اور قطر کا بھی دورہ کریں گے۔

سات اکتوبر 2023ء سے اسرائیل نے غزہ کے خلاف وحشیانہ جارحیت کا آغاز کیا ہے، جس کے نتیجے میں اب تک 120,000 سے زیادہ فلسطینی ہلاک اور زخمی ہوئے، جن میں سے زیادہ تر بچے اور خواتین ہیں۔ 10,000 کے قریب لاپتہ ہو گئے ہیں جب کہ مسلسل ناکہ بندی کی وجہ سے گنجان آباد فلسطینی پٹی میں لوگوں کو قحط کے حالات کا سامنا ہے۔

غزہ میں اسرائیلی جنگ روکنے کی تمام تر سفارتی اور سیاسی کوششوں کو اسرائیلی انا کی وجہ سے ناکامی کا سامنا ہے۔ اسرائیل نے غزہ میں جنگ بندی کے مطالبے پر مبنی سلامتی کونسل کی قرارداد اور عالمی عدالت انصاف کے رفح میں جنگی کارروائیاں فوری روکنے کے احکامات کو بھی نظرانداز کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں