ایک امریکی ایجنسی ایران کے ایک سائبر آپریشنز گروپ ’سائبر ایوینجرز‘ کے بارے میں معلومات دینے پر 10 ملین ڈالر تک کے انعام کی پیشکش کر رہی ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے انعامات برائے انصاف (آر ایف جے) پروگرام نے اسلامی انقلابی سپاہ سے منسلک کم از کم چھ ایرانیوں کے خلاف نوٹس جاری کیا جنہوں نے مبینہ طور پر امریکہ کے خلاف بدخواہی پر مبنی سائبر سرگرمیوں میں حصہ لیا تھا۔
حمید ہمایوں فال، حمید رضا لشکریان، مہدی لشکریان، میلاد منصوری، محمد باقر شیریں کار اور رضا محمد امین صابریان کا نام آر ایف جے کے نوٹس میں تھا۔
لشکریان جس کے بارے میں آر ایف جے کا دعویٰ ہے کہ وہ مختلف سائبر اور انٹیلی جنس کارروائیوں کے پیچھے ہے، کو سپاہِ پاسداران کی سائبر الیکٹرانک کمانڈ کے سربراہ اور قدس فورسز میں کمانڈر کے طور پر نامزد کیا گیا تھا۔
دیگر مبینہ طور پر سپاہِ پاسداران کی سائبر الیکٹرانک کمانڈ کے سینئر عہدیدار ہیں۔
اس گروپ نے اسرائیل میں قائم یونی ٹرونکس کے بنائے گئے پروگرام ایبل لاجک کنٹرولرز (پی ایل سیز) کی ویژن سیریز کو نشانہ بنایا اور نقصان پہنچایا جو پانی اور گندے پانی، توانائی، خوراک اور مشروبات، مینوفیکچرنگ، صحت کی نگہداشت اور دیگر شعبوں میں استعمال ہوتے ہیں۔
اکتوبر 2023 میں سائبر ایوینجرز کے عناصر نے اپنے ٹیلیگرام چینل پر اسرائیلیوں کے خلاف سائبر حملوں کے لیے کریڈٹ کا دعویٰ کیا۔
آر ایف جے نے کہا، "کم از کم 22 نومبر 2023 کے بعد سے سائبر ایوینجرز کے عناصر نے پورے امریکہ میں ان پی ایل سیز میں پہلے سے طے شدہ تصدیق ناموں کو نقصان پہنچایا ہے اور آلات کی ڈیجیٹل سکرین پر ایک پیغام چھوڑ دیا ہے۔"
ہیکنگ کے وقت آلات پر دکھائے جانے والے بعض پیغامات یوں تھے: "آپ کو ہیک کر لیا گیا ہے۔ 'اسرائیل میں بنایا گیا' ہر ساز و سامان سائبر ایوینجرز کا ایک 'قانونی ہدف ہے۔"
تمام چھے افراد پر فروری 2024 سے امریکہ نے پابندیاں لگائی ہیں۔ اس کے نتیجے میں امریکہ میں موجود تمام اشیاء اور ملکیت ضبط کر لی گئی ہے اور امریکی شہریوں کے ساتھ تمام لین دین روک دیا گیا ہے۔
امریکہ 'انتہائی غیر محفوظ'
دریں اثناء انسداد دہشت گردی اور کوڈ بریکنگ میں مہارت رکھنے والے سینئر امریکی انٹیلی جنس افسر میلکم نینس نے العربیہ کے رِض خان کو بتایا کہ امریکہ غلط معلومات کی مہمات کے لیے "بہت غیر محفوظ" ہے۔
جوں جوں بڑی تعداد میں دیکھے جانے والے امریکی صدارتی انتخابات قریب آ رہے ہیں تو معلومات کے ذرائع - بنیادی طور پر سوشل میڈیا - حقائق کے لحاظ سے غلط دعووں سے لبریز ہو گیا ہے جن میں سے بعض کا الزام روسی، چینی اور بعض اوقات ایرانی سرکاری پروپیگنڈا مشینوں پر لگایا جاتا ہے۔
جولائی میں امریکی محکمہ انصاف نے کہا کہ اس نے ایک روسی کارروائی کو روکنے کے لیے اقدامات کیے جس کا مقصد مصنوعی ذہانت کا استعمال کرتے ہوئے امریکہ، یورپ اور اسرائیل میں پروپیگنڈا پھیلانا تھا۔
اس وقت امریکی حکام نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز بشمول ایکس سے متعدد اکاؤنٹس کو ہٹا دیا جو مبینہ طور پر مصنوعی ذہانت کا استعمال کرتے ہوئے بنائے اور چلائے گئے تھے۔
مائیکروسافٹ کے محققین نے جمعہ کے روز کہا کہ ایک کاؤنٹی سطح کے امریکی اہلکار کے اکاؤنٹ کی خلاف ورزی کرنے کے چند ہفتوں بعد ایرانی حکومت سے منسلک ہیکرز نے جون میں امریکی صدارتی مہم کے ایک "اعلیٰ عہدے دار" کے اکاؤنٹ میں نقب لگانے کی کوشش کی۔
رائٹرز کی ایک رپورٹ میں محققین کے حوالے سے بتایا گیا کہ یہ خلاف ورزیاں ایرانی گروپوں کی طرف سے نومبر میں ہونے والے امریکی صدارتی انتخابات پر اثر انداز ہونے کی بڑھتی ہوئی کوششوں کا حصہ تھیں۔