بین الاقوامی عدالت انصاف نے جمعہ کے روز فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس کے سربراہ اسماعیل ھنیہ کے خلاف اپنے ہاں زیر سماعت مقدمے کو ختم کر کے کارروائی روک دی ہے۔
اسماعیل ھنیہ کو ایک اسرائیلی کارروائی کے نتیجے میں اس وقت قتل کر دیا گیا تھا جب وہ ایران کے نو منتخب صدر مسعود پیز شکیان کی تقریب حلف برداری میں شرکت کے لیے 31 جولائی کو تہران میں مقیم تھے۔
اسماعیل ھنیہ کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کرنے کی درخواست بین الاقوامی عدالت انصاف کے پراسکیوٹر کریم خان نے کر رکھی تھی۔
وارنٹ جاری کرنے کی یہ درخواست اسماعیل ھنیہ کے جانشین یحیی السنوار کے علاوہ اسرائیل وزیر اعظم نیتن یاہو اور اسرائیلی وزیر دفاع یوآو گیلنٹ کے بھی مانگے گئے تھے۔
نیتن یاہو اور یوآو گیلنٹ کے خلاف فلسطینیوں کی نسل کشی کے سنگین الزام کے تحت تحقیقات جاری ہیں۔ تاہم اب بین الاقوآمی عدالت انصاف کے پراسیکیوٹر نے اسماعیل ھنیہ کے وارنٹ جاری کرنے کی درخواست واپس لے لی ہے۔ کریم خان نے دو اگست کو ایک درخواست میں لکھا اسماعیل ھنیہ کے قتل کے بعد حالات میں تبدیلی آ گئی ہے اس لیے ان کے بارے میں وارنٹ جاری کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
دوسری جانب بین الاقوامی عدالت انصاف اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو اور وزیر دفاع یوآو گیلنٹ کے بارے کریم خان کی وارنٹ جاری کرنے کی درخواست کا ابھی جائزہ لے رہے ہیں۔