سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے اطلاع دی ہے کہ شامی فوج روسی فضائی کور کے ساتھ حماۃ کے قصبوں پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
سیریئن آبزرویٹری نے العربیہ/الحدث کو مزید بتایا کہ حلب اور اس کے اطراف میں "ھیٗۃ تحریر الشام" کے ٹھکانوں پر شدید روسی حملے ہوئے ہیں۔
دریں اثناء روسی طیاروں نے حماۃ گورنری اور حلب کے علاقوں پر حملہ کیا۔
دوسری طرف العربیہ/الحدث کے نامہ نگار نے بتایا کہ "ھیئۃ تحریر الشام" ’ایس ڈی ایف‘ کو حلب سے محفوظ طور پر نکلنے کی پیش کش کی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ "ھیٗۃ تحریر الشام" حلب کے کردوں کو بھائی کہہ کر مخاطب کر رہا ہے اور ان کے تحفظ کا وعدہ کر رہا ہے۔
آبزرویٹری نے کہا کہ شمالی شام میں مسلح دھڑوں کے حملے میں مرنے والوں کی تعداد 412 ہو گئی ہے۔
درایں اثناء انقرہ کے وفادار شامی دھڑے شمالی شام کے شہر حلب کے آس پاس دو محوروں پر تصادم میں مصروف ہیں۔ سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کی رپورٹ کے مطابق ھیٗۃ کی طرف سے شروع کیے گئے ایک الگ حملے میں اس کے ساتھ اتحاد کرنے والے دھڑےشامی فوج کے ساتھ لڑ رہے ہیں۔
حلب پر شامی حکومت کا کنٹرول ختم ہو چکا
شام کا دوسرا سب سے بڑا شہر حلب اتوار کے روز حکومتی فورسز کے کنٹرول سے باہر ہو گیا ہے جب کہ ھیٗۃ تحریر الشام اور اس کے اتحادی دھڑوں نے شہر کے بیشتر علاقوں کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ البتہ حلب کے شمالی علاقے کرد جنگجوؤں کے زیر کنٹرول ہیں۔
ان دھڑوں نے بدھ کے روز حلب گورنری اور اس کے اطراف میں حکومتی فورسز کے زیر کنٹرول علاقوں پر اچانک حملہ شروع کیا۔ وہ حلب شہر میں تیزی سے پیش قدمی کرنے اور ادلب اور حماۃ کے درجنوں قصبوں اور شہروں کے علاوہ اس کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کو کنٹرول کرنے میں کامیاب ہوگئے۔
اتوار کے روز آبزرویٹری نے حلب کے مشرقی دیہی علاقوں میں ہفتے کے روز انقرہ کے وفادار شامی دھڑوں کی طرف سے شروع کیے گئے ایک متوازی حملے کی اطلاع دی۔ عسکریت پسندوں نے کویرس فوجی ہوائی اڈے پر قبضے کے علاوہ السفیرہ اور خانصرجیسے اسٹریٹیجک شہروں کا کنٹرول حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ حکومتی فورسز کے ساتھ جھڑپوں کے دوران اس کے کم از کم نو ارکان مارے گئے۔
کردوں کے ساتھ جھڑپیں
حلب کے شمالی دیہی علاقوں میں یہ دھڑے کرد جنگجوؤں کے ساتھ جھڑپوں میں مصروف ہیں، جو امریکی حمایت یافتہ سیریئن ڈیموکریٹک فورسز کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ یہ حملے الشیخ نجار کے صنعتی علاقے میں مرکوز ہیں۔
آبزرویٹری کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمان نے کہا کہ انقرہ کے وفادار دھڑوں کے حملوں کا مقصد دریائے فرات کے مغربی کنارے پر حلب گورنری کے شمال مشرق میں واقع منبج شہر کو کرد فورسز کے لیے سپلائی کا راستہ منقطع کرنا ہے۔
اتوار کے روز ایک بیان میں کرد خود مختار انتظامیہ نے "شام کی سرزمین پر ترک ریاست اور اس کے کرائے کے فوجیوں کی طرف سے شروع کیے گئے حملے کی مذمت کی"۔ انہوں نے کہا کہ ان حملوں کا مقصد مقصد "شام کو تقسیم کرنا" ہے۔
ان کا خیال تھا کہ "حلب اور حما میں شروع ہونے والا حملہ صرف ایک مخصوص علاقے تک محدود نہیں ہے، بلکہ پورے شام کو خطرہ ہے۔"
انقرہ کرد یونٹوں کو ایک "دہشت گرد" تنظیم قرار دیتا ہے۔ اس نے 2016ء سے شامی دھڑوں کے ساتھ مل کر اس کے خلاف کئی حملے کیے ہیں، جس کے نتیجے میں اس کا ایک وسیع سرحدی پٹی پر کنٹرول قائم ہوگیا۔