تہران نے پاسداران انقلاب کے ایک بریگیڈیئر جنرل کو دمشق بھیج دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

شام میں ’’ ھیئہ تحریر الشام ‘‘ اور اس کے اتحادی دھڑوں کی جانب سے علاقوں پر قبضہ کی روشنی میں ایران نے بار بار تصدیق کی ہے کہ وہ شامی فوج کی حمایت جاری رکھے گا۔ اب ایران نے پاسداران انقلاب کے سینئر کمانڈر جواد غفاری کو فوجی مشیروں کے ساتھ شام بھیج دیا ہے۔ جرمن خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق جواد غفاری حماۃ شہر کے ارد گرد شامی حکومتی فورسز کی جانب سے شروع کیے جانے والے جوابی حملے کی حمایت کریں گے۔

جواد غفاری کو نکال دیا گیا

گزشتہ ماہ ذرائع نے ’’العربیہ‘‘ کو اطلاع دی تھی کہ پاسداران انقلاب کے کمانڈر جواد غفاری کو شام کے صدر بشار الاسد کی درخواست پر ایندھن کی سمگلنگ میں ملوث ہونے کی وجہ سے شام کی سرزمین سے بے دخل کر دیا گیا تھا۔ ذرائع نے بتایا تھا کہ شامی صدارتی محل ایرانی افواج کے نمائندے کے طور پر جواد غفاری کے اقدامات سے مطمئن نہیں ہے۔

جہاں تک ایرانی وزارت خارجہ کا تعلق ہے اس نے اس وقت اعلان کیا تھا کہ پاسداران انقلاب میں بریگیڈیئر جنرل کی واپسی شام میں ان کے مشن کے اختتام پر ہوئی ہے۔ انہوں نے بالواسطہ طور پر اس بات کی تردید کی تھی کہ جواد کی شام سے واپسی کے حوالے سے جو باتیں کی گئی ہیں وہ درست ہیں۔

یاد رہے جواد غفاری نے حلب کے چار سالہ محاصرے کے دوران ایران نواز دھڑوں کی قیادت کی تھی۔ اس وقت میڈیا اور بین الاقوامی تنظیموں کی طرف سے ان کی افواج پر جرائم کے ارتکاب کا الزام لگایا گیا تھا۔ یو ایس انسٹی ٹیوٹ فار دی سٹڈی آف وار کے مطابق جواد غفاری کو شام کا ماہر سمجھا جاتا ہے اور 2016 میں شہر پر دوبارہ قبضے میں ان کے کردار کی بنا پر انہیں "حلب کا قصاب" کہا جاتا تھا۔

حماۃ میں مسلح ڈھڑے
حماۃ میں مسلح ڈھڑے

قاسم سلیمانی ٹو

تہران کے بہت سے حامیوں نے اسے سوشل میڈیا پر ’’قاسم سلیمانی ٹو‘‘ کے طور پر بیان کیا اور کہا ہے کہ وہ دمشق کی طرف مسلح دھڑوں کی پیش قدمی کو روکنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ جواد غفاری کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ جنوری 2020 کے اوائل میں بغداد کے ہوائی اڈے پر ایک امریکی حملے میں مارے جانے سے قبل پاسداران انقلاب میں قدس فورس کے کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی کے مستقل ساتھی تھے۔

پاسداران انقلاب کے بریگیڈیئر جنرل جواد غفاری۔
پاسداران انقلاب کے بریگیڈیئر جنرل جواد غفاری۔

یہ پیش رفت اس وقت ہوئی ہے جب مسلح دھڑوں نے بدھ 27 اکتوبر کو شمال مغربی شام کے شہر حلب پر اچانک حملہ کیا اور اس کا کنٹرول سنبھال لیا۔ پھر مسلح دھڑوں نے حماۃ شہر کا رخ کرلیا اور حماۃ کے مضافات میں اب تک پرتشدد لڑائیاں جاری ہیں۔ واضح رہے ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے گزشتہ پیر کو تصدیق کی تھی کہ دمشق کی درخواست پر ایرانی فوجی مشیروں کی موجودگی جاری رہے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں