امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے مغربی کنارے کے پرتشدد یہودی آبادکاروں سے ہٹائی جانے والی پابندیوں کے بعد اسرائیلی حکومت اور انتہا پسند جماعتوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔
نیتن یاہو حکومت کے انتہا پسند اتحادی اور وزیر خزانہ بذالیل سموٹریچ نے منگل کے روز ڈونلڈ ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا ہےکہ انہوں نے پابندیاں اٹھا کر مغربی کنارے میں یہودی آبادکاروں کے لیے غیر متزلزل حمایت کا اظہار کیا ہے۔
سموٹریچ نے اس خیر مقدمی بیان میں کہا ہے 'یہودی آبادکاروں پر جو بائیڈن انتظامیہ کی طرف سے یہ پابندیاں اسرائیل کے اندرونی معاملات میں کھلی اور سنگین غیر ملکی مداخلت تھی۔ یہ اسرائیل کے جمہوری اصولوں کی غیر منصفانہ انداز کی خلاف ورزی تھی اور دوطرفہ احترام اور دوستی کی اقدار کے خلاف تھا۔'
خیال رہے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کل وائٹ ہاؤس میں حلف کی تقریب کے فوری بعد جن ایگزیکٹیو آرڈرز پر دستخط کر کے اپنی صدارتی سمت اور ترجیحات کا اظہار کیا ہے، ان میں ایک یہ بھی ہے کہ انہوں نے مغربی کنارے کے پرتشدد یہودی آباکاروں پر عائد کردہ امریکی پابندیوں کو ہٹا دیا ہے۔
پرتشدد یہودی آبادکاروں کے خلاف یہ پابندیاں جو بائیڈن انتظامیہ نے یکم فروری 2024 کو یہودی آبادکاروں کے فلسطینیوں پر بڑھے ہوئے پرتشدد حملوں کے بعد عائد کی تھیں۔
مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی آبادکاروں کی فلسطینیوں کے خلاف کارروائیاں سالہا سال سے جاری ہیں۔ امریکی جو بائیڈن انتظامیہ نے اس جانب اسرائیلی حکومت کی بار ہا توجہ مبذول کرائی مگر بالآخر اسے خود یہ اقدام کرنا پڑا۔
اہم بات ہے کہ امریکہ جوبائیڈن انتظامیہ کے بعد بعض یورپی ملکوں نے بھی ان یہودی آبادکاروں کے خلاف پابندیوں کا اعلان کیا تھا۔ لیکن اب دیکھنا ہوگا کہ وہ مغربی ممالک اپنے اصولی مؤقف پر قائم رہتے ہوئے پرتشدد کارروائیوں کے خلاف کھڑے رہتے ہیں یا وہ ٹرمپ انتظامیہ کے اس تازہ فیصلے کے پیچھے چل پڑتے ہیں۔
اسرائیل کے دو روز پہلے مستعفی ہونے والے انتہا پسند وزیر ایتمار بین گویر نے بھی ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے یہودی آبادکاروں کے ساتھ اس 'جیسچر' کا خیر مقدم کیا ہے اور امریکی پابندیاں ہٹائے جانے کے فیصلے کو طویل عرصے سے چلے آرہے غیر منصفانہ اقدام کی اصلاح قرار دیا ہے۔