فلسطینی عوام کی بے دخلی اور جبری ہجرت ظلم ہے، شریک نہیں ہو سکتے : مصری صدر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

مصری صدر عبدالفتاح السیسی کا کہنا ہے کہ "فلسطینی عوام کی بے دخلی اور جبری ہجرت ظلم ہے جس میں ہم شریک نہیں ہو سکتے"۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ "اس جبری ہجرت کو نظر انداز کرنا یا اس کی اجازت دینا ممکن ہی نہیں کیوں کہ یہ مصر کی قومی سلامتی پر اثر انداز ہو سکتی ہے"۔

مصری صدر کا یہ موقف آج قاہرہ میں کینیا کے صدر ولیم روٹو کے ساتھ ایک پریس کانفرنس میں سامنے آیا۔ السیسی کا کہنا تھا کہ مصر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہے تا کہ دو ریاستوں کے حل پر قائم مقصود امن تک پہنچا جا سکے۔

انھوں نے واضح کیا کہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے مصر کے تاریخی اور اٹل موقف سے دست بردار نہیں ہوا جا سکتا۔ السیسی کے مطابق مصر نے اس بحران کے آغاز سے ہی خبردار کر دیا تھا کہ اس کا مقصد جبری ہجرت ہے ، اسی لیے قاہرہ نے شروع میں ہی اس کو مسترد کرنے کے حوالے سے اپنے موقف کا اعلان کر دیا تھا۔

مصری صدر نے کہا کہ "مصری ، عربی اور عالمی رائے عامہ یہ ہے کہ فلسطینی عوام پر 70 برس تک تاریخی ظلم ہوتا رہا ہے ... 7 اکتوبر سے اب تک جو کچھ ہو رہا ہے وہ مسئلہ فلسطین کے حل تک نہ پہنچنے کا خمیازہ ہے"۔

اس سے قبل ایک اعلی سطح کے مصری عہدے دار نے منگل کے روز ان میڈیا رپورٹوں کی تردید کر دی تھی جن میں کہا گیا کہ مصری صدر عبدالفتاح السیسی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ٹیلی فون پر غزہ سے فلسطینیوں کی منتقلی کے حوالے سے بات چیت ہوئی۔ عہدے دار نے باور کرایا کہ مصری صدر کی کسی بھی ٹیلی فون کال کا باقاعدہ اعلان کیا جاتا ہے بالخصوص جب کہ اس سطح پر رابطہ کیا جائے اور وہ بھی ایسے وقت میں جب کہ مشرق وسطیٰ اس اہم موڑ سے گزر رہا ہو۔

اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ فلسطینیوں کی غزہ کی پٹی سے باہر منتقلی کی تجویز سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ ٹرمپ کے مطابق وہ مصری صدر کے ساتھ اس موضوع پر بات کر چکے ہیں۔ امریکی صدر کا کہنا تھا کہ انھوں نے اپنے مصری ہم منصب کو آگاہ کیا کہ وہ چاہتے ہیں کہ "یہ (فلسطینی) ایک ایسے علاقے میں رہیں جہاں وہ بنا کسی گڑبڑ اور انقلاب کے زندگی گزار سکیں ، جب آپ غزہ کی پٹی کی طرف دیکھتے ہیں تو یہ کئی برس سے جہنم بنی ہوئی ہے"۔

واضح رہے کہ 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر حماس تنظیم کے حملے کے سبب چھڑنے والی جنگ کے نتیجے میں غزہ کی پٹی کے تقریبا 24 لاکھ افراد بے گھر ہو گئے.

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں