حق واپسی ترک کرنے کی شرط پر غزہ میں فلسطینی خاندانوں کو فلیٹ دینے کی تجویز
سمندر پر سب ویز اور ریزورٹس کی بجائے میٹرو کی تعمیر،کثیر منزلہ عمارتیں اور لگژری ہوٹلوں کی تعمیر کے منصوبوں پر بات چیت کا انکشاف
اگرچہ غزہ کی پٹی کا مستقبل تاریک ہے۔ اسرائیل اور حماس کے درمیان 19 جنوری سے شروع ہونے والے جنگ بندی کے معاہدے کے باوجود جنگ سے تباہ حال پٹی کا مستقبل ایک سوالیہ نشان ہے۔ اگرچہ جنگ بندی کے بعد پٹی کو دوبارہ تعمیر کرنے کی ضرورت کے بارے میں بات چیت شروع ہو گئی ہے۔
پورے غزہ میں ملبے کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں۔ پس پردہ بات چیت اور وژن نے تعمیر نو کے منصوبے تیار کرنا شروع کر دیے ہیں۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایلچی سٹیو وٹ کوف کے اسرائیل کے حالیہ دورے کے ساتھ ہی اس موضوع پر بات ہونے لگی ہے۔
اگرچہ ٹرمپ حالیہ دنوں میں تباہ شدہ غزہ کی پٹی کے مکینوں کو اس کی تعمیر کا راستہ بنانے کے لیے پڑوسی ملکوں کو منتقل کرنے کے معاملے پر زور دے رہے ہیں، لیکن ان کے ایلچی نے تعمیر نو کے لیے ایک منصوبہ پیش کیا ہے۔
اونچی عمارتیں
ایسا لگتا ہے کہ یہ منصوبہ چینی تعمیراتی طریقہ سے متاثر ہے جس میں تقریباً 50 منزلوں کی اونچائی والی اونچی عمارتوں کی تعمیر شامل ہے۔ تاکہ ہر خاندان کے لیے مناسب رہائشی اپارٹمنٹ فراہم کیا جاسکے۔ تاہم یہ فلیٹ ان فلسطینی خاندانوں کو دیے جائیں گے جو 1948ء پہلے نکبہ کے دوران نکالے گئے علاقے میں واپس جانے سے دستبردار ہوجائے گا۔
اخبار "الشرق الاوسط" کی رپورٹ کے مطابق یہ رہائش 25 سال کی مدت کے لیے معمولی فیس پر ہوگی، جس کے بعد یہ پراپرٹی بغیر کسی اضافی چارجز کے اس خاندان کی ذاتی ملکیت بن جائے گی۔
اس کے علاوہ گھر مفت حاصل کرنے کے لیے زراعت، سیاحت، یا اعلیٰ ٹیکنالوجی (ہائی ٹیک) کے شعبوں میں کام کرنے کے لیے رضامند ہونا ضروری ہے۔ یہ ایسے موضوعات ہیں جن پر تعمیر نو کے دوران توجہ دی جائے گی۔
ہوٹل اور میٹرو
اس منصوبے میں ساحل سمندر پر جدید ہوٹلوں اور ریزورٹس کے ایک گروپ کا قیام بھی شامل ہے۔
اس میں حماس کی زیر زمین سرنگوں کو ٹرین نیٹ ورک کے لیے ریلوے سرنگوں میں تبدیل کرنے کا بھی حوالہ دیا گیا ہے جو مصر، سعودی عرب، اردن اور مغربی کنارے تک پھیل سکتا ہے۔
منصوبے کے ڈویلپرز نے اندازہ لگایا کہ تعمیر نو کے عمل میں 10 سے 15 سال لگیں گے۔ اس سے پہلے بڑے ملبے کو خالی کرنے اور 5 سال تک پیشہ ورانہ طور پر اس کو ٹھکانےلگانے کا عمل ہوگا۔
وٹکوف نے جن مسائل پر تبادلہ خیال کیا ان میں اس منصوبے میں عرب اور فلسطینی شراکت داری قائم کرنے کے ساتھ اسرائیلی نجی شعبے کی شمولیت کی تجویز بھی شامل ہے۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ اقوام متحدہ کے تازہ ترین اندازوں میں اشارہ دیا گیا ہے کہ سات اکتوبر 2023ء کو حماس کے غزہ کے اطراف میں کیے گئے فوجی حملے کے بعد اسرائیل کی خونریز جنگ سے پٹی کی تقریباً 80 فیصد عمارتیں مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہو چکی ہیں۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ ملبے کو اکیلے ہٹانے میں برسوں لگیں گے۔ جنگ نے غزہ میں برسوں کی ترقی کو ختم کر دیا ہے۔