’’ آپ کی سلامتی خطرے میں ہے‘‘ مصریوں اور اسرائیلیوں کے درمیان الیکٹرانک جنگ شروع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

مصریوں اور اسرائیلیوں کے درمیان پلیٹ فارم ’’ ایکس‘‘ پر گزشتہ گھنٹوں کے دوران ٹویٹس اور باہمی الزامات کے درمیان ایک گرما گرم الیکٹرانک جنگ دیکھنے میں آئی ہے۔

ایک مصری مواد کے تخلیق کار محمد نور کی جانب سے گزشتہ ہفتے کے روز لکھے گئے ایک ٹویٹ کے بعد ’’ ایکس‘‘ پر درجنوں اسرائیلی اکاؤنٹ متحرک ہوگئے۔ مصری شہری محمد نور نے اپنی پوسٹ میں فلسطینیوں کو بے گھر کرنے کی صورت میں اسرائیلی فوج کو دھمکی دی تھی۔ اسرائیلی مشہور شخصیات اور مواد کے تخلیق کاروں نے مصری شہری کو ٹویٹس کے ساتھ جواب دیا جس میں مصر، اس کے عوام اور اس کی فوج کے خلاف دھمکیاں دی گئیں۔

جنگ اس وقت شروع ہوئی جب نور نے اپنے ٹویٹ میں اس بات کی تصدیق کی کہ 100 ملین سے زیادہ مصری شہری فوج کے پیچھے کھڑے ہیں اور لمحوں میں اپنی فوج کی صفوں میں شامل ہونے کے لیے تیار ہیں اور اگر اسرائیلی افواج سینا کے قریب پہنچیں تو وہ اسرائیلی سرحد پر حملہ کرنے والے جنگجو بن جائیں گے۔ محمد نور نے اسرائیلی عوام کو خطاب کرتے ہوئے کہا "اپنی حکومت کو اس خیال کو مسترد کرنے پر اکسائیں، ورنہ مصر کے ساتھ جنگ کی قیمت چکانی پڑے گی۔"

اسرائیلی ’’ ایکس ‘‘ صارفین نے واضح اور براہ راست دھمکیوں کے ساتھ جواب دیا اور انہیں یاد دلایا کہ جون 1967 میں کیا ہوا تھا۔ انہوں نے نہ صرف سینا ء پر قبضہ کرنے بلکہ قاہرہ تک داخل ہونے ، دریائے نیل کے ذرائع سے کھیلنے، مصر کو پانی دینے سے انکار کرنے اور بین الاقوامی پابندیاں لگانے اور اقتصادی ناکہ بندی کرنے کی دھمکی بھی دے دی۔

دریں اثنا سجاوک پوتن سکائی نام کے ایک ’’ ایکس‘‘ استعمال کرنے والے اسرائیلی نےلکھا : "ایک ایسے شخص کے طور پر جو امن پر یقین رکھتا ہے اور اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ اسرائیل اور مصر کے تعلقات کو برقرار رکھنا ضروری ہے ، میں کہتا ہوں کہ مصری فوج کی طرف سے اسرائیل کے خلاف ایک حملہ قاہرہ کو جبالییا اور پورے سینائی کو کانٹے دار محور میں تبدیل کر دے گا"

سائبر وار

ایک اور اسرائیلی ایلاد ہومنر نے بھی مداخلت کی اور ایک پوسٹ میں لکھا جس میں مصری فوجیوں کی اسرائیلی مقام میں داخل ہونے کی ویڈیو شائع کرنے کی وجہ پوچھی اور مزید کہا کہ "کیا مصری صحیح وقت کا انتظار کر رہے ہیں یا میں جلدی کر رہا ہوں؟" پھر پلیٹ فارم نے لڑائیوں کے ایک اور دور کا مشاہدہ کیا جب مصریوں نے دوبارہ مداخلت کی اور عبرانی میں ہومنر کے ٹویٹ کا جواب دیا۔

اس دوران محمد نور نے وضاحت کی کہ وہ اسرائیلی مشہور شخصیات اور سیاست دانوں کی جانب سے ان کی ٹویٹ پر آنے والے ردعمل سے حیران ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلیوں کو عبرانی میں پیغام بھیجنے کے بعد انہیں بہت سی دھمکیاں موصول ہوئی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے دفتر کے ملازمین، کنیسٹ کے ارکان اور اسرائیلی فوج کے کمانڈروں نے ان کا جواب دیا ہے۔

اسرائیلی چینل 14 کی ہیکنگ

اس دوران سوشل میڈیا کے علمبردار احمد عثمان کا نام استعمال کرنے والے ایک مصری ہیکر نے اسرائیلی چینل 14 کی مبینہ ہیکنگ کے بارے میں ایک عجیب و غریب ویڈیو پھیلا کر حیران کردیا۔ گردش کرنے والی ویڈیو میں اسرائیلی چینل پر قومی ترانہ بجانے پر مصری پرچم دکھایا گیا۔ نچلے حصے میں ایک ٹیپ بھی نمودار ہوئی جس میں لکھا تھا: "مصری ہیکر احمد عثمان نے لاگ ان کیا ہے" اس کے علاوہ غزہ کے باشندوں کو ان کی سرزمین سے بے گھر کرنے سے انکار کرنے کا پیغام بھی دیا گیا۔ تاہم بعد میں ویڈیو کا جائزہ لینے سے معلوم ہوا کہ یہ سچ نہیں ہے۔

سوشل میڈیا پر یہ تمام جنگ اسرائیل اور مصر کے درمیان حالیہ کشیدگی میں اضافے کے ساتھ شروع ہوئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں