سابق فلپائنی صدر دوتیرتے بین الاقوامی فوجداری عدالت سے گرفتاری کے وارنٹ پر ہیگ منتقل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

فلپائن کے سابق صدر روڈو ریگو دوتیرتے کو مبینہ جنگی جرائم کے الزامات کے بعد الاقوامی فوجداری عدالت کے وارنٹ پر منیلا میں گرفتار ہونے کے بعد منگل کو دی ہیگ لے جایا گیا ہے۔ان کے وکیل نے بتایا کہ ان پر انسانیت کے خلاف جرائم کا الزام ہے۔

وکیل مارٹن ڈیلگرا نے وائبر کے ذریعے صحافیوں کے ایک گروپ کو بتایا کہ دوتیرتے مقامی وقت کے مطابق رات 9 بجے کے قریب تین افراد کے ساتھ منیلا انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر طیارے میں سوار ہوئے۔

چند گھنٹے قبل، فلپائنی حکام نے اعلان کیا تھا کہ پولیس نے سابق صدر کو منگل کی صبح اس وقت گرفتار کر لیا جب ان کا طیارہ منیلا کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر اترا۔ ان کی گرفتاری بین الاقوامی فوجداری عدالت کی جانب سے جاری کردہ وارنٹ کے بعد عمل میں لائی گئی ہے۔ ’آئی سی سی‘ نے منشیات کے اسمگلروں کے خلاف جنگ میں انسانیت کے خلاف جرائم کے ارتکاب کے الزام میں گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے تھے۔

فلپائنی ایوان صدر نے ایک بیان میں کہاکہ " منیلا میں انٹرپول کو بین الاقوامی فوجداری عدالت کی طرف سے جاری کیے گئے وارنٹ گرفتاری کی سرکاری کاپی موصول ہوئی ہے۔ جس کے بعد دتیرتے کو تحویل میں لے لیا گیا ہے‘۔

بین الاقوامی فوجداری عدالت کے مطابق، 79 سالہ ڈوٹیرٹے کو ایک کریک ڈاؤن پر "جان بوجھ کر قتل" کرنے کے الزامات کا سامنا ہے جس میں انسانی حقوق کے گروپوں کا اندازہ ہے کہ فوج اور پولیس کے ارکان کے ہاتھوں دسیوں ہزار غریب آدمی مارے گئے ہیں، جن میں اکثر منشیات کے تعلق کے ثبوت کے بغیر ہیں۔

ڈوٹیرٹے کو ہانگ کانگ کے مختصر سفر کے بعد منیلا کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر اترنے کے فوراً بعد گرفتار کر لیا گیا۔

فلپائن نے 2019 میں بین الاقوامی فوجداری عدالت سے دوتیرتے کی ہدایت پر دستبرداری اختیار کر لی تھی، لیکن عدالت نے زور دے کر کہا کہ دستبرداری سے قبل ہونے والی ہلاکتوں کے ساتھ ساتھ جنوبی شہر داواؤ میں ہونے والی ہلاکتوں پر بھی اس کا دائرہ اختیار ہے جب ڈوٹیرٹے صدر بننے سے کئی سال قبل قصبے کے میئر تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں