سعودی وزارت خارجہ نے اسرائیل کی جانب سے فلسطینی اراضی میں جارحیت اور نہتے شہریوں کو اور ان کی پناہ کے علاقوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رکھنے اور درجنوں افراد کی ہلاکت کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔ اس میں غزہ میں بے گھر افراد کی پناہ گاہ دار الارقم اسکول کو نشانہ بنانا شامل ہے۔
اسی طرح سعودی عرب نے قابض اسرائیلی فوج کی جانب سے رفح کے مشرق میں موراج کے عالقے میں سعودی مرکز برائے ثقافت و ورثہ کے اسٹور کو تباہ کیے جانے کی بھی مذمت کی ہے۔ اس اسٹور میں طبی لوازمات موجود تھے جو غزہ کی پٹی میں مریضوں اور زخمیوں کی ضرورت کے واسطے مختص تھے۔
سعودی وزارت خارجہ کے مطابق اسرائیلی پر تشدد کارروائیوں اور تباہی کے احتساب کے لیے بین الاقوامی طریقہ کار کی عدم موجودگی کے سبب قابض اسرائیلی حکام اور ان کی فوج کو جارحیت اور خلاف ورزیوں میں اضافے کا موقع مل رہا ہے۔ یہ علاقائی اور عالمی امن و استحکام کے لیے خطرہ بن رہا ہے۔ سعودی عرب ایک مرتبہ پھر سلامتی کونسل کے رکن ممالک کے کردار کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے تا کہ فلسطینی عوام کے درد ناک حالات کا خاتمہ کیا جا سکے۔
-
غزہ کے علاقے الشجاعیہ میں اسرائیلی فوج کے زمینی آپریشن کا آغاز
اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی کے شمال میں الشجاعیہ کے علاقے میں زمینی آپریشن شروع ...
بين الاقوامى -
غزہ میں فائر بندی کی اہمیت باور کرانے کے لیے فرانسیسی صدر سیناء جائیں گے
فرانس کے صدر عمانوئل ماکروں آئندہ منگل کے روز اپنے مصر کے دورے میں العریش شہر ...
بين الاقوامى -
غزہ جنگ : امریکہ کے بعد برمنگھم میں بھی یونیورسٹی طلبہ کے خلاف کارروائی
برطانیہ کی برمنگھم یونیورسٹی کے دو طلبہ بھی امریکہ کی کولمبیا یونیورسٹی کے طلبہ کی ...
بين الاقوامى