ہارورڈ کے پروفیسرز کا ٹرمپ کے نو بلین کی تعلیمی فنڈنگ پر نظرِ ثانی کرنے پر مقدمہ
مالی اعانت میں کٹوتی یونیورسٹی پر سیاسی نظریات مسلط کرنے کی کوشش قرار
ہارورڈ یونیورسٹی کے پروفیسرز ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے تقریباً نو بلین ڈالر کے وفاقی معاہدوں اور آئیوی لیگ سکول کو دی گئی امداد کے جائزے اور نظرِ ثانی کو روکنے کے لیے مقدمہ کر رہے ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ نے کالج کے کیمپس میں یہود دشمنی کو مالی اعانت پر نظرِ ثانی کی وجہ قرار دیا ہے۔
امریکن ایسوسی ایشن آف یونیورسٹی پروفیسرز کے ہارورڈ فیکلٹی چیپٹر اور تعلیمی تنظیم کی قومی شاخ نے جمعہ کو بوسٹن کی ایک وفاقی عدالت میں دائر کردہ مقدمے میں کہا کہ انتظامیہ سکول کے کیمپس میں تعلیمی آزادی اور آزادئ اظہار کو غیر قانونی طور پر کمزور کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔
عدالت میں انتظامیہ کی پالیسیوں کا دفاع کرنے والے امریکی محکمہ انصاف نے ہفتے کے روز تبصرہ کرنے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔ کیمبرج، میساچوسٹس میں مقیم ہارورڈ نے بھی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔
ہارورڈ سمیت متعدد اشرافیہ یونیورسٹیوں نے دیکھا ہے کہ تعلیمی کیمپس میں فلسطینی حامی احتجاج کے ساتھ ساتھ تنوع، مساوات اور شمولیت کے پروگرام (ڈی ای آئی) اور ٹرانس جینڈر پالیسیوں جیسے دیگر مسائل پر ان کی وفاقی فنڈنگ کو ٹرمپ انتظامیہ کی طرف سےخطرہ ہے۔
یو ایس ڈیپارٹمنٹس آف ایجوکیشن اینڈ ہیلتھ اینڈ ہیومن سروسز نے یو ایس جنرل سروسز ایڈمنسٹریشن کے ہمراہ 31 مارچ کو کہا کہ ہارورڈ، اس کے ملحقہ اداروں اور وفاقی حکومت کے درمیان 255.6 ملین ڈالر کے معاہدوں پر نظرِ ثانی ہو رہی تھی۔ ساتھ ہی 8.7 بلین ڈالر کی کثیر سالہ گرانٹ کے وعدے بھی زیرِ جائزہ تھے۔
اس کے بعد کے ایک خط میں ان حکومتی ایجنسیوں نے ہارورڈ سے وفاقی فنڈز حاصل کرنے کے لیے متعدد شرائط پورا کرنے کا مطالبہ کیا جن میں ماسک کے استعمال پر پابندی، ڈی ای آئی پروگرام ختم کرنا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون پر اتفاق کرنا شامل ہیں۔
کئی فلسطینی حامی مظاہرین نے احتجاج کے دوران ماسک پہنے ہوئے تھے۔ خط میں یہ بھی کہا گیا کہ ہارورڈ کو ایسے پروگراموں اور محکموں کا جائزہ لینا اور ان میں تبدیلیاں کرنی چاہئیں جو "یہود مخالف ہراسانی" کو ہوا دیتے ہیں اور وہ پالیسی کی خلاف ورزیوں پر طلباء سے جواب طلبی کرے۔
انتظامیہ نے 1964 کے شہری حقوق ایکٹ کا ٹائٹل VI نافذ کرنے کے اختیار کا حوالہ دیا ہے جو وفاقی فنڈنگ حاصل کرنے والے اداروں کا احاطہ کرنے والا ایک قانون ہے جو امتیازی سلوک کی مخالفت کرتا ہے۔
لیکن مقدمے میں الزام لگایا گیا کہ انتظامیہ فنڈنگ روکنے کے لیے قانونی تقاضوں پر عمل کرنے میں ناکام رہی ہے اور اس کے اقدامات سے امریکی آئین کی پہلی ترمیم میں درج آزادئ اظہار کے حقوق کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔
مدعیان نے الزام لگایا کہ اس کا مقصد "ہارورڈ یونیورسٹی پر سیاسی نظریات اور ٹرمپ انتظامیہ کی پیش کردہ پالیسی ترجیحات مسلط کرنا اور یونیورسٹی کو ناپسندیدہ تقریر پر طلباء کو سزا دینے کا پابند بنانا تھا۔"
ہارورڈ میں قانون کے پروفیسر اور سکول کی یونیورسٹی پروفیسرز کی انجمن کی شاخ کے جنرل کونسل اینڈریو کریسپو نے ایک بیان میں کہا، "پہلی آئینی ترمیم حکومتی اہلکاروں کو یہ اجازت نہیں دیتی کہ وہ ناقدین کو خاموش کرنے اور ناپسندیدہ تقریر کو دبانے کے لیے اپنے عہدے کی طاقت استعمال کریں۔"