مصری پروڈیوسر اور براڈکاسٹر سارہ خلیفہ کو منشیات کی سمگلنگ کے الزام میں گرفتار کیے جانے کے بعد اس کہانی کے بارے میں نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔
خام چرس
مصری سکیورٹی سروسز نے تصدیق کی کہ ایک مجرم گروہ مصنوعی چرس کے لیے خام مال کی مقدار لے کر آیا اور انہیں قاہرہ کے دو اپارٹمنٹس میں اسمگلنگ کے لیے نشہ آور مادہ کی آمیزش اور تیاری کے لیے لیبارٹریوں کے طور پر استعمال کیا گیا۔ حیران کن امر یہ ہے کہ اس دھندے میں ایک خاتون میڈیا اہلکار بھی ملوث ہیں۔
پولیس نے وضاحت کی کہ وہ اس گینگ کے ارکان کو گرفتار کرنے میں کامیاب ہوگئی اور ان کے قبضے سے بڑی مقدار میں مصنوعی چرس تھی، جس کی مقدار 200 کلو گرام تھی قبضے میں لی گئی۔
منشیات کی آمیزش اور تیاری کے لیے استعمال ہونے والا خام مال، مشینری اور اوزار بھی قبضے میں لے لیے گئے، ساتھ ہی ایک مقدار میں سونے کے زیورات، ملکی اور غیر ملکی کرنسیوں میں رقم اور ان کی سرگرمیوں میں استعمال ہونے والی پانچ کاریں بھی برآمد کی گئیں۔
ضبط کی گئی منشیات کی مالیت کا تخمینہ تقریباً 420 ملین پاؤنڈ لگایا گیا تھا۔
براڈکاسٹر اور پروڈیوسر
قابل ذکر ہے کہ سارہ خلیفہ مارچ 1994 میں قاہرہ گورنریٹ میں پیدا ہوئی۔ آرٹ پروڈکشن میں آنے سے پہلے اس نے کئی سیٹلائٹ چینلز پر براڈکاسٹر اور پریزنٹر کے طور پر کام کیا۔
سارہ کی منگنی ایک مشہور بین الاقوامی فٹبالر سے ہوئی تھی جو زمالک، الاہلی اور مصر کی قومی ٹیم کے لیے کھیلتا رہا ہے۔ پولیس کو جب اس پر منشیات کے دھندے میں ملوث ہونے کا شبہ ہوا تو اسے قاہرہ کےایک محلے کے اندر ایک اپارٹمنٹ کے اندر سے اس کو گرفتار کرلیا گیا۔
تحقیقات سے معلوم ہوا کہ براڈکاسٹر نے اپنے گھر کو بڑے پیمانے پر منشیات کی تقسیم کے مرکز میں تبدیل کر دیا تھا۔
سارہ نے پولیس کو اعترافی بیان میں کہا بہت سے لوگ جو منشیات خریدنا اور اکثر اسے استعمال کرتے تھے اس کے ساتھ رابطہ کرتے تھے۔