جوہری ایران

اسرائیل میں خفیہ ملاقاتوں میں "بغیر انتباہ" ایران پر حملہ کرنے کے امکان پر تبادلہ خیال

اسرائیلی اندازوں سے پتہ چلتا ہے ایران پر حملے کی صورت میں لڑائی کا دور نامعلوم مدت تک جاری رہ سکتا ہے: اخبار معاریو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

اسرائیلی اخبار ’’ معاریو‘‘ نے نامعلوم ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ اسرائیل کی متعدد وزارتوں نے حال ہی میں خفیہ ملاقاتیں کی ہیں تاکہ ایران پر ’’ بغیر پیشگی انتباہ‘‘ اسرائیلی حملے کے امکان پر بات چیت کی جا سکے۔

اسرائیلی ذرائع نے وضاحت کی ہے کہ اندازوں سے پتہ چلتا ہے کہ اگر حملہ کیا جاتا ہے تو نامعلوم مدت کے لیے لڑائی کا ایک دور شروع ہونے کا امکان ہے۔ اس میں ممکنہ طور پر 700 کلو گرام تک کے ہزاروں بھاری میزائلوں کا اسرائیل پر گرنا بھی شامل ہے۔ لڑائی کے اس طرح کے دور کی تیاریوں میں تمام 10 ہزار سے زیادہ عوامی پناہ گاہوں کو فوری طور پر کھولنا، انفراسٹرکچر کی تیاری، مختلف ضروریات کو پورا کرنا، انخلا کے علاقوں کی نشاندہی کرنا اور ہسپتالوں کی تعداد میں اضافہ کرنا شامل ہے۔

وال سٹریٹ جرنل نے اپنے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے "اسرائیل کی تشویش" کو نوٹ کیا کہ امریکہ ان مطالبات کو ترک کر سکتا ہے کہ تل ابیب ایران کے ساتھ اپنے مذاکرات میں افزدوگی کو روکنے جیسی "ریڈ لائنز" پر غور کرے تاکہ تہران کے ساتھ مذاکرات کو تیز کیا جا سکے اور اس کے جوہری پروگرام پر کوئی معاہدہ کیا جا سکے۔ ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ واشنگٹن اسرائیل کی ایرانی جوہری تنصیبات کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی کی صلاحیت کو محدود کرنے کے لیے کام کر رہا ہے۔ اس میں "ٹرم شیٹ" میں افزودگی کا مکمل روک شامل ہے۔

وال سٹریٹ جرنل نے بھی ایک سینئر امریکی عہدیدار کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا ہے کہ امریکہ ایران کو پیش کرنے کے لیے ایک دستاویز تیار کر رہا ہے جسے "ٹرم شیٹ" کہا جاتا ہے۔ اس میں ایک اہم شق شامل ہے جس میں یورینیم کی افزودگی کو مکمل طور پر روکنے کی ضرورت ہے۔ اخبار کے مطابق نامعلوم عہدیدار نے خبردار کیا ہے کہ اگر تہران ان شرائط کو مسترد کرتا ہے تو یہ ایرانیوں کے لیے اچھا دن نہیں ہو گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ واشنگٹن اور تل ابیب کے درمیان فی الحال ایرانی جوہری پروگرام سے نمٹنے کے طریقہ کار پر اختلاف ہے تاہم انہوں نے کہا کہ اگر ایران معاہدے تک پہنچنے کی خواہش ظاہر نہیں کرتا تو امریکی موقف تبدیل ہو سکتا ہے۔ اسی تناظر میں اسرائیل کے اپنے دورے اور وزیر اعظم نیتن یاہو سے ملاقات کے دوران امریکی ہوم لینڈ سکیورٹی کی سیکریٹری کرسٹی نوم نے ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے یا تیار کرنے سے روکنے کے لیے ٹرمپ انتظامیہ کے غیر متزلزل عزم پر زور دیا تھا۔

کرسٹی نوم نے ایک بیان میں کہا تھا کہ اسرائیل کا دورہ معنی خیز تھا۔ انہوں نے امریکہ اور اسرائیل کے درمیان پائیدار شراکت داری کی تصدیق کی تھی۔ یہ اقدامات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایرانی جوہری پروگرام کے حوالے سے دباؤ بڑھ رہا ہے۔ سلطنت عمان کی ثالثی میں واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات کے پانچ دور ہو چکے ہیں۔ فریقین بحران سے نکلنے کا سفارتی راستہ تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

امریکی حکام نے اس بات پر زور دیا ہے کہ کوئی بھی معاہدہ ایران کی جانب سے اپنی سرزمین پر یورینیم کی افزودگی پر پابندی کے لیے واشنگٹن کی شرائط کو مکمل طور پر قبول کرنے پر منحصر ہے۔ بدلے میں تہران نے دعویٰ کیا ہے کہ یورینیم کی افزودگی ایک "ریڈ لائن" ہے جس سے آگے پیچھے نہیں ہٹا جا سکتا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں