ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی، مذاکرات کی طرف واپسی کا موقع ہے:یورپی یونین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس نے کہا ہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان اعلان کردہ نازک جنگ بندی خوش آئند خبر ہے، جو تمام فریقوں کو مذاکرات کی میز پر واپس لانے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس" پر جاری بیان میں انہوں نے کہاکہ "تمام فریقین کو مزید پرتشدد کارروائیوں سے گریز کرنا چاہیے۔ یہ مناسب وقت ہے کہ دوبارہ مذاکرات کی طرف لوٹیں"۔

یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کی صبح ایران اور اسرائیل کے درمیان مکمل جنگ بندی کا اعلان کیا اور دونوں ممالک سے اس پر عمل درآمد کی اپیل کی۔

جنگ بندی کی خلاف ورزی

تاہم بعد ازاں ٹرمپ نے واضح کیا کہ دونوں ممالک نے اس جنگ بندی کی خلاف ورزی کی ہے۔ انہوں نے بالخصوص اسرائیل پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جنگ بندی پر رضامندی کے فوراً بعد اسرائیل اس سے پیچھے ہٹ گیا۔ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ "میں دیکھتا ہوں کہ آیا میں اسرائیل کو روک سکتا ہوں یا نہیں"۔

ایران کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ اس کی جوہری صلاحیت کا خاتمہ ہو چکا ہے اور تہران اب ان تنصیبات کو دوبارہ تعمیر نہیں کرے گا۔

بارہ روزہ جنگ

واضح رہے کہ گذشتہ 12 دنوں میں ایران اور اسرائیل کے درمیان شدید اور غیر معمولی نوعیت کی لڑائی ہوئی، جس میں اسرائیل نے ایران کی عسکری اور جوہری تنصیبات، میزائل لانچنگ پلیٹ فارمز، اعلیٰ فوجی کمانڈروں اور جوہری سائنس دانوں کو نشانہ بنایا۔

جوابی کارروائی میں ایران نے اسرائیلی علاقوں پر میزائلوں اور ڈرونز سے حملے کیے۔

امریکہ نے اس جنگ میں براہ راست مداخلت کرتے ہوئے ہفتے کی شب ایران کے تین جوہری مراکزفردو، نطنز اور اصفہان پر فضائی حملے کیے۔

اس کے جواب میں ایران نے پیر کے روز قطر اور عراق میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا، تاہم ان حملوں میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ اسی رات ڈونلڈ ٹرمپ نے اچانک جنگ بندی کا اعلان کیا۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان عمان کی ثالثی میں 12 اپریل سے اب تک پانچ مذاکراتی دور ہو چکے ہیں، جن میں دونوں فریقین نے بعض امور میں پیش رفت کا دعویٰ کیا ہے، اگرچہ یورینیم کی افزودگی کے حق پر اختلاف برقرار ہے۔

یہ معاملہ اب بھی سب سے بڑا تنازعہ ہے۔ ایران اپنے سول نیوکلیئر پروگرام کے لیے افزودگی کا حق تسلیم کرانے پر مُصر ہے جبکہ امریکہ اس کی سختی سے مخالفت کرتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں