خفیہ رپورٹ میں فلسطین ایکشن پر برطانیہ کی پابندی کے جواز پر سوالات

"گروپ کی زیادہ تر سرگرمیاں دہشت گردی کے زمرے میں نہیں آتیں": رپورٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 7 منٹ

خفیہ انٹیلی جنس کی ایک جائزہ رپورٹ سامنے آنے کے بعد برطانوی حکومت کو اس بات پر جانچ پڑتال کا سامنا ہے کہ اس نے فلسطینی حامی مہم کار گروپ فلسطین ایکشن پر دہشت گردی قوانین کے تحت پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کن بنیادوں پر کیا۔ اس رپورٹ سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ گروپ کی زیادہ تر سرگرمیوں کو "دہشت گردی قرار نہیں دیا جائے گا،" نیویارک ٹائمز نے جمعہ کو اطلاع دی۔

القاعدہ اور داعش سمیت تقریباً 80 دیگر تنظیموں ہی کے برابر سمجھتے ہوئے لیبر حکومت نے جولائی میں گروپ کو دہشت گردی ایکٹ کے تحت کالعدم قرار دے دیا تھا۔

اس اقدام سے گروپ کی رکنیت، حمایت اور مالی اعانت کو جرم قرار دیا گیا اور اس کے بعد سینکڑوں مظاہرین گروپ سے یکجہتی کا مظاہرہ کرنے پر گرفتار ہو چکے ہیں۔

وزیرِ مملکت برائے سلامتی ڈین جارویس نے "واضح انٹیلی جنس" کا حوالہ دیتے ہوئے عدالتی فیصلے کا دفاع کیا جیسا کہ انہوں نے گروپ کی سرگرمیوں کو"دھمکی اور مجرمانہ نقصان کی حامل بڑھتی ہوئی مہم" قرار دیا تھا۔

فلسطین ایکشن نے اسرائیل کی ہتھیار ساز کمپنی ایلبٹ سسٹمز سے منسلک تنصیبات اور جون میں اس کے کارکنوں نے برطانیہ کے سب سے بڑے فضائی مرکز پر چھاپے کے دوران ایک طیارے کو نقصان پہنچایا تھا۔

لیکن نیویارک ٹائمز (این وائے ٹی) کی ملاحظہ کردہ اور ایم آئی فائیو سے منسلک جوائنٹ ٹیررازم اینالیسس سنٹر (جے ٹی اے سی) کی سات مارچ کی ایک غیر اعلانیہ رپورٹ میں ایک زیادہ محتاط تصویر پیش کی گئی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ گروپ کے کارکنان نے شدید نقصان پہنچایا تھا جس میں ایک احتجاجی کا پولیس افسران پر ہتھوڑے سے حملہ کرنے کا ایک کیس بھی شامل ہے۔ اور گروپ کے زیرِ زمین مینوئل میں تخریب کاری کی حوصلہ افزائی بھی پائی گئی۔

تاہم اس میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ "گروپ کی زیادہ تر سرگرمیاں دہشت گردی کے زمرے میں نہیں آتیں" جن میں دیواری پینٹنگ، دھرنے اور معمولی توڑ پھوڑ جیسے واقعات شامل ہیں۔ جائزے میں اس بات پر بھی شک کا اظہار کیا گیا کہ دوسرے ممنوعہ گروپوں کی طرح یہ گروپ لوگوں پر حملوں کی حوصلہ افزائی کر سکتا ہے۔

رپورٹ میں تین ایسے واقعات کی نشاندہی کی گئی جو دہشت گردی کے زمرے میں آ سکتے ہیں اور ان تمام میں ایلبٹ سے منسلک مقامات پر املاک کو نقصان پہنچا ہے۔

گلاسگو کی ایک فیکٹری میں ایک اعلیٰ سطحی نقب زنی کے معاملے پر بعد میں صرف "نقصِ امن" کے طور پر مقدمہ چلایا گیا۔ ٹائمز اخبار کے حوالے سے سکاٹش پولیس کے ریکارڈ میں کہا گیا ہے کہ یہ عمل "دہشت گردی کی قانونی تعریف پر پورا اترنے کے قریب نہیں ہے۔"

سابق حکام اور قانونی ماہرین کا خیال ہے کہ اس کیس سے یہ بات نمایاں ہوئی ہے کہ اب دہشت گردی کے قوانین کس قدر وسیع پیمانے پر نافذ کیے جا رہے ہیں۔

برمنگھم لاء سکول کے ایلان گرین نے این وائے ٹی کو بتایا، فلسطین ایکشن پر پابندی جان کو لاحق خطرات کے بجائے املاک کی تباہی پر انحصار کرتی ہے۔

اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ترک نے برطانیہ پر زور دیا کہ وہ یہ اقدام واپس لے لیں اور خبردار کیا کہ اس سے دہشت گردی "واضح حدود سے باہر" جا پہنچی۔

سکریٹری داخلہ یوویٹ کوپر نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ گلاسگو کے چھاپے سے آبدوز کے پرزہ جات کو ایک ملین پاؤنڈ سے زیادہ کا نقصان پہنچا حالانکہ عدالتی شواہد کے مطابق یہ اعداد و شمار تقریباً 190,000 پاؤنڈ بتائے گئے ہیں جس میں ضائع شدہ باقی ماندہ آمدن شامل ہے۔

پابندی کے بعد فلسطین ایکشن باضابطہ طور پر تحلیل ہو گیا لیکن حامیوں نے اس پر پابندی کے خلاف مہم جاری رکھی اور گروپ لندن ہائی کورٹ میں اسے چیلنج کر رہا ہے جس کی سماعت 25 ستمبر کو ہو گی۔

گروپ پر پابندی کے حکومتی فیصلے کی مخالفت کرنے والے مہم کاروں نے کہا ہے کہ وہ ایک ہفتے کے مظاہروں کی تیاری کر رہے ہیں جو اس ماہ کے آخر میں لیورپول میں لیبر پارٹی کانفرنس سے شروع ہو کر چار اکتوبر کو لندن کے پارلیمنٹ سکوائر میں ایک بڑے جلسے کے ساتھ ختم ہوں گے۔ اسی دوران رپورٹ کے نتائج سامنے آ گئے ہیں۔

دی گارڈین کی خبر کے مطابق احتجاج کا اعلان جمعہ کو ڈیفینڈ آور جیوریز نے کیا تھا جو پابندی کی مخالفت کرنے والا ایک گروپ ہے۔

ایک ہفتہ پہلے پارلیمنٹ کے باہر 857 مظاہرین کو دہشت گردی ایکٹ کے تحت گرفتار کر لیا گیا تھا۔

منتظمین نے اگلے مرحلے کو ایک "بڑی کشیدگی" قرار دیا جو پولیس کے لیے ایک "بے مثال چیلنج" کا باعث ہو گا اور دعویٰ کیا کہ 1,100 سے زائد افراد پہلے ہی گرفتاری کا خطرہ مول لینے کا عہد کر چکے ہیں۔

ایک ترجمان نے کہا، "اس آمرانہ پابندی کی پیروی کرنے کا الزام حکومت پر عائد ہوتا ہے جس سے پولیس فورس، عدالتیں اور جیل مزید افراتفری کا شکار ہو جائیں گے۔"

وزیر اعظم کیئر سٹارمر پر اس ہفتے اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ سے ملاقات کے لیے "گہرے دوہرے معیار" کا الزام لگایا گیا تھا جبکہ گروپ کے کارکنان کو اس کی حمایت میں پلے کارڈز اٹھانے پر گرفتاری کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

ڈیفینڈ آور جیوریز نے یکجہتی کی ملک گیر کارروائیوں کی بھی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے حامیوں سے کہا ہے کہ وہ اپنی کھڑکیوں میں ایسے نشانات آویزاں کریں۔ ایک وائرل ویڈیو میں پولیس نے سابق لیبر کونسلر کیتھ ہیکیٹ کو بتایا کہ وہ قانونی طور پر گھر پر فلسطین ایکشن کے پوسٹر آویزاں کر سکتے ہیں لیکن عوام میں نہیں۔ اس کے بعد یہ اقدام کیا گیا۔

پابندی کے نفاذ کے بعد سے اب تک 1,600 سے زائد افراد گرفتار ہو چکے ہیں جن میں مذہبی عہدیداران، ڈاکٹر، سابق فوجی اور بزرگ کارکنان شامل ہیں۔ زیادہ تر زیرِ حراست افراد پر فردِ جرم عائد نہیں کی گئی ہے حالانکہ سات مبینہ منتظمین گذشتہ ہفتے عدالت میں پیش ہوئے تھے۔

ٹریڈ یونین کانگریس نے اس ہفتے متفقہ طور پر ایک تحریک منظور کی جس میں پابندی کی منسوخی کا مطالبہ کیا گیا اور اسے "انسدادِ دہشت گردی کے اختیارات کا نہایت غلط استعمال اور نسل کشی کرنے والی اسرائیلی حکومت کے خلاف احتجاج کے حق پر براہِ راست حملہ" قرار دیا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں