درجنوں انسانی حقوق کی تنظیموں کی عالمی برادری سے یمن کےلاکھوں لوگوں کوقحط سے بچانے کی اپیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

یمن کی بگڑتی ہوئی انسانی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے 47 انسانی حقوق اور امدادی تنظیموں نے عالمی برادری کو خبردار کیا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کئے گئے تو کروڑوں یمنی باشندے بھوک اور قحط کے دلدل میں پھنس جائیں گے۔

یہ اپیل اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اسیویں اجلاس کے موقع پر جاری کی گئی، جس میں کہا گیا کہ یمن کی بگڑتی ہوئی صورتحال نے عوام سے زندگی کی بنیادی سہولیات چھین لی ہیں اور ہر دن ان کے لیے بقا کی جنگ میں بدل چکا ہے۔ بیان میں زور دیا گیا کہ انسانی جانیں بچانے اور تباہ کن بحران کو مزید گہرا ہونے سے روکنے کے لئے ہنگامی اور مربوط اقدامات ناگزیر ہیں۔

بیان پر دستخط کرنے والی تنظیموں میں اوکسفام، کیئر، نارویجن ریفیوجی کونسل، سیو دی چلڈرن اور انٹرسوس جیسی نمایاں عالمی اور مقامی ادارے شامل ہیں۔ ان اداروں نے خبردار کیا کہ یمن گذشتہ ایک دہائی میں بدترین مالیاتی بحران سے دوچار ہے جس کی وجہ سے انسانی المیہ تیزی سے شدت اختیار کر رہا ہے۔

اعدادوشمار کے مطابق اس وقت 1 کروڑ 70 لاکھ سے زائد یمنی عوام کو بھوک کا خطرہ لاحق ہے جن میں کم از کم 41 ہزار افراد قحط کی بدترین سطح پر پہنچنے کے قریب ہیں۔ مزید یہ کہ 24 لاکھ سے زائد بچے جو پانچ برس سے کم عمر کے ہیں شدید غذائی قلت کا شکار ہیں اور ان میں سے لاکھوں کی زندگیاں فوری مداخلت کے بغیر خطرے میں ہیں۔

تنظیموں نے متنبہ کیا کہ یہ اعدادوشمار مزید بڑھ سکتے ہیں کیونکہ امداد میں مسلسل کمی، بیماریوں کے پھیلاؤ اور معاشی بدحالی نے عوام کی برداشت کی قوت ختم کر دی ہے۔ بیان کے مطابق اگر سنہ2025ء کے باقی مہینوں میں کوئی فوری عالمی اقدام نہ کیا گیا تو یمن کے سب سے کمزور علاقے کھلے عام قحط کا سامنا کریں گے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ حالیہ تباہ کن سیلاب، خطے میں بڑھتی کشیدگی اور اقوام متحدہ کے ملازمین اور انسانی کارکنوں کی ایک برس سے زائد عرصے سے جاری جبری گرفتاریوں نے انسانی بحران کو مزید گھمبیر بنا دیا ہے اور ضرورت مند عوام تک امداد پہنچنے کے راستے مسدود کر دیے ہیں۔

ان تنظیموں نے عطیہ دینے والے ممالک سے فوری مالی معاونت کی فراہمی کا مطالبہ کیا تاکہ خوراک، پانی، صحت کی سہولیات، رہائش، نقد امداد اور تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔ ان کے مطابق یمن ایک نہایت نازک موڑ پر کھڑا ہے اور عوام مزید مصیبت سہنے کے متحمل نہیں ہو سکتے، لہٰذا اب وقت ہے کہ عالمی برادری ان کے ساتھ کھڑی ہو اور انہیں اپنی زندگی دوبارہ سنبھالنے کا موقع دے۔

بیان میں اقوام متحدہ کے رکن ممالک پر زور دیا گیا کہ وہ انسانی کارکنوں کی فوری رہائی کو یقینی بنائیں، امدادی عملے اور سامان کی آزادانہ نقل و حرکت پر کوئی قدغن نہ لگائی جائے اور امن عمل کے لئے سفارتی کوششوں کو تیز کیا جائے تاکہ یمن کا مسئلہ خطے اور دنیا کے دیگر ایجنڈوں کے ہجوم میں نظر انداز نہ ہو۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں