وزارتِ صحت نے کہا ہے کہ مالدیپ نے ہفتے کے روز جنوری 2007 کے بعد پیدا ہونے والے ہر فرد پر سگریٹ نوشی کی پابندی کا نفاذ شروع کر دیا ہے۔ اس طرح وہ تمباکو نوشی پر نسلی پابندی کا حامل واحد ملک بن گیا ہے۔
اس سال کے اوائل میں صدر محمد معز کا شروع کردہ اقدام جو یکم نومبر سے نافذ العمل ہوا ہے، "صحتِ عامہ کی حفاظت اور تمباکو سے پاک نسل کو فروغ دے گا،" وزارت نے کہا۔
نیز کہا، "نئی شق کے تحت یکم جنوری 2007 کو یا اس کے بعد پیدا ہونے والے افراد پر مالدیپ کے اندر تمباکو کی مصنوعات خریدنے، استعمال یا فروخت کرنے پر پابندی ہے۔ اس پابندی کا اطلاق تمباکو کی تمام اقسام پر ہوتا ہے اور خوردہ فروشوں کو فروخت سے قبل عمر کی تصدیق کرنی ہو گی۔"
اس اقدام کا اطلاق ملک کا دورہ کرنے والے زائرین پر بھی ہوتا ہے جو اپنی پُرتعیش سیاحت کے لیے معروف اور مرجان کے 1,191 چھوٹے چھوڑے جزائر پر مشتمل ہے۔ یہ جزائر خطِ استوا کے اس پار تقریباً 800 کلومیٹر (500 میل) کے فاصلے پر بکھرے ہوئے ہیں۔
وزارت نے کہا کہ الیکٹرانک سگریٹ اور ویپنگ مصنوعات کی درآمد، فروخت، تقسیم، قبضے میں رکھنے اور استعمال کرنے پر بھی جامع پابندی برقرار ہے جو عمر سے قطع نظر تمام افراد پر عائد ہوتی ہے۔
کسی کم عمر شخص کو تمباکو کی مصنوعات فروخت کرنے پر 50,000 روفیا (3,200 ڈالر) جبکہ ویپ ڈیوائسز استعمال کرنے پر 5,000 روفیا (320 ڈالر) جرمانہ نافذ ہے۔
برطانیہ میں تجویز کردہ ایسی ہی نسلی پابندی ابھی قانون سازی کے عمل سے گذر رہی ہے جبکہ نیوزی لینڈ نے اسے متعارف کروانے کے ایک سال سے بھی کم عرصے میں نومبر 2023 میں منسوخ کر دیا تھا۔ یہ سگریٹ نوشی کے خلاف اس طرح کا قانون نافذ کرنے والا اولین ملک تھا۔