بورس جونسن کاBBC پر ٹرمپ کے خلاف وڈیو کلپوں میں جعل سازی کا الزام

سابق برطانوی وزیر اعظم نے چینل کے رویے کو "مکمل طور پر شرم ناک" قرار دیتے ہوئے استعفے کا مطالبہ کیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

سابق برطانوی وزیر اعظم بورس جونسن نے برطانوی نشریاتی ادارے "بی بی سی" پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ اس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایک وڈیو کو اس انداز میں ایڈٹ کیا کہ گویا وہ ہنگامہ آرائی پر اکسا رہے ہوں، حالانکہ جونسن کے مطابق "انھوں نے ایسا کچھ نہیں کہا تھا"۔

منگل کے روز ایکس (سابق ٹوئٹر) پر اپنے بیان میں جونسن نے لکھا کہ "یہ مکمل طور پر شرم ناک ہے۔ بی بی سی نے ٹرمپ کی فوٹیج میں ایسی ترمیم کی جس سے ایسا لگا جیسے وہ ہنگاموں پر اکسا رہے ہوں، جب کہ حقیقت میں انھوں نے ایسا نہیں کیا۔ ہمارے پاس برطانیہ کا قومی نشریاتی ادارہ ہے جو اپنے مرکزی پروگرام میں ملک کے قریبی ترین اتحادی کے بارے میں واضح جھوٹ پھیلا رہا ہے۔ کیا بی بی سی میں کوئی اس کی ذمہ داری لے کر استعفا دے گا؟"

یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب برطانوی اخبار دی ٹیلیگراف نے ایک رپورٹ شائع کی جس کا عنوان تھا "نو طریقے جن سے بی بی سی نے ناظرین کو ٹرمپ کے بارے میں گمراہ کیا"۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ بی بی سی نے امریکی صدر کی تقاریر کی نشریاتی پیشکش میں کئی بے ضابطگیاں کیں۔

یہ تنازع برطانیہ میں سرکاری نشریاتی ادارے کی ساکھ پر ایک نئی بحث چھیڑ رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب بی بی سی پر ملکی و غیر ملکی سیاسی واقعات کی رپورٹنگ میں جانب داری کے الزامات پہلے ہی سے لگتے رہے ہیں۔

تا حال بی بی سی نے جونسن کے الزامات پر کوئی با ضابطہ ردِ عمل نہیں دیا، تاہم مبصرین کے مطابق یہ حملہ برطانیہ کے قدامت پسند حلقوں اور بعض میڈیا اداروں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کا تسلسل ہے۔ بالخصوص اُن معاملات میں جو امریکہ اور صدر ٹرمپ سے متعلق ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں اس معاملے پر سیاسی اور میڈیا کی سطح پر مزید ردِ عمل سامنے آسکتا ہے اور امکان ہے کہ بی بی سی کے اندرونی طریقہ کار اور وڈیو کے مندرجات کی جانچ کے لیے با ضابطہ تحقیقات کا مطالبہ کیا جائے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں