"بی بی سی" نے ٹرمپ سے معذرت کر لی ... امریکی صدر کا ہرجانے کا مطالبہ مسترد
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ابھی تک "بی بی سی" کے خلاف کوئی مقدمہ دائر نہیں کیا ہے
برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے جمعرات کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے معذرت کی ہے کیونکہ اس نے ٹرمپ کی ایک تقریر کی ایسی ترمیم (ایڈیٹنگ) کی تھی جس سے یہ تاثر پیدا ہوتا تھا کہ وہ تشدد پر اکسا رہے ہیں، تاہم ادارے نے ان کے ہرجانے کے مطالبے کو مسترد کر دیا ہے۔
بی بی سی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ وہ یہ پروگرام دوبارہ نشر نہیں کرے گا۔ ادارے نے کہا "اگرچہ بی بی سی کو اس بات پر گہرا افسوس ہے کہ وڈیو کلپ کو جس انداز میں ایڈٹ کیا گیا، لیکن ہم ہرگز اس بات سے متفق نہیں کہ اس میں کسی قسم کی توہین کا کوئی مقدمہ بنتا ہے۔"
ادارے کے اندر تعصب کے بارے میں سامنے آنے والے الزامات ... جن میں 2021 میں ٹرمپ کی اس تقریر کی ترمیم کا معاملہ بھی شامل ہے جب کہ اُس ہی روز ان کے حامیوں نے کیپیٹل ہِل پر دھاوا بولا تھا ... کی وجہ سے بی بی سی کے دو اعلیٰ عہدے داروں نے استعفا دے دیا۔ اس کے بعد ٹرمپ نے ایک ارب ڈالر کے ہرجانے کا مقدمہ دائر کرنے کی دھمکی دی۔
بی بی سی پر یہ خطرہ بھی منڈلانے لگا کہ ادارے کو اپنے ناظرین کی فیس سے حاصل ہونے والی رقم سے امریکی صدر کو اس غلطی کا معاوضہ دینا پڑ سکتا ہے۔ ایسا اقدام جو اس کے ناقدین کے لیے مزید مواد فراہم کرے گا، خصوصاً ایسے وقت میں جب سالانہ لائسنس فیس ادا کرنے والوں کی تعداد کم ہو رہی ہے۔
ٹرمپ کے وکلا نے بی بی سی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پروگرام "پینوراما" کی نشریات واپس لے، صدر سے با ضابطہ معافی مانگے اور انہیں ہونے والے نقصان کے مطابق معاوضہ ادا کرے، ورنہ ادارہ کم از کم ایک ارب ڈالر کے ہرجانے کے مقدمے کا سامنا کرے گا۔
ٹرمپ کی قانونی ٹیم نے جمعرات کو بتایا کہ امریکی صدر نے اب تک بی بی سی کے خلاف کوئی مقدمہ دائر نہیں کیا ہے۔